اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 423 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 423

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۱۷ اسلامی اصول کی فلاسفی لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهِ ۖ وَمَا دُعَاءُ الْكَفِرِينَ إِلَّا فِي ضَال یعنی دعا کرنے کے لائق وہی سچا خدا ہے جو ہر ایک بات پر قادر ہے اور جولوگ اس کے سوا اوروں کو پکارتے ہیں وہ کچھ بھی ان کو جواب نہیں دے سکتے ۔ ان کی مثال ایسی ہے کہ جیسا کوئی پانی کی طرف ہاتھ پھیلا دے کہ اے پانی میرے منہ میں آ جا تو کیا وہ اس کے منہ میں آ جائے گا۔ ہر گز نہیں ۔ سو جو لوگ بچے خدا سے بے خبر ہیں ان کی تمام دعائیں باطل ہیں۔ دوسرا وسیلہ خدا تعالیٰ کے اس حسن و جمال پر اطلاع پانا ہے جو باعتبار کمال نام کے اس میں پایا جاتا ہے۔ کیونکہ حسن ایک ایسی چیز ہے جو بالطبع دل اس کی طرف کھینچا جاتا ہے اور اس کے مشاہدہ سے طبعاً محبت پیدا ہوتی ہے تو حسن باری تعالیٰ اس کی وحدانیت اور اس کی عظمت اور بزرگی اور صفات ہیں جیسا کہ قرآن شریف نے یہ فرمایا ہے۔ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدُ اللهُ الصَّمَدُ۔ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ یعنی خدا اپنی ذات اور صفات اور جلال میں ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔ سب اس کے حاجت مند ہیں۔ ذرہ ذرہ اس سے زندگی پاتا ہے۔ وہ کل چیزوں کے لئے مبد فیض ہے اور آپ کسی سے فیضیاب نہیں۔ وہ نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کسی کا باپ اور کیوں کر ہو کہ اس کا کوئی ہم ذات نہیں ۔ قرآن نے بار بار خدا کا کمال پیش کر کے اور اس کی عظمتیں دکھلا کے لوگوں کو توجہ دلائی ہے کہ دیکھو ایسا خدا دلوں کا مرغوب ہے نہ کہ مردہ اور کمزور اور کم رحم اور کم قدرت ۔ تیسر اوسیلہ جو مقصود حقیقی تک پہنچنے کے لئے دوسرے درجہ کا زینہ ہے۔ خدا تعالیٰ کے احسان پر اطلاع پانا ہے کیونکہ محبت کی محرک دو ہی چیزیں ہیں حسن یا احسان اور الرعد: ۱۵ الاخلاص : ۲ تا ۵