اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 416 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 416

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۱۰ اسلامی اصول کی فلاسفی ہوگی اور پھر جوفر مایا کہ ستر گنز کی زنجیر میں اس کو داخل کرو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک فاسق بسا اوقات ستر برس کی عمر پالیتا ہے بلکہ کئی دفعہ اس دنیا میں اس کو ایسے ستر برس بھی ملتے ہیں کہ خورد سالی کی عمر اور پیر فرتوت ہونے کی عمر الگ کر کے پھر اس قدر صاف اور خالص حصہ عمر کا اس کو ملتا ہے جو عقلمندی اور محنت اور کام کے لائق ہوتا ہے لیکن وہ بد بخت اپنی عمدہ زندگی کے ستر برس دنیا کی گرفتاریوں میں گذارتا ہے اور اس زنجیر سے آزاد ہونا نہیں چاہتا۔ سوخدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ وہی ستر برس جو اس نے گرفتاری دنیا میں گزارے تھے عالم معاد میں ایک زنجیر کی طرح مستمثل ہو جائیں گے جو ستر گنز کی ہوگی۔ ہر ایک گز بجائے ایک سال کے ہے۔ اس جگہ یا درکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ اپنی طرف سے بندہ پر کوئی مصیبت نہیں ڈالتا بلکہ وہ انسان کے اپنے برے کام اس کے آگے رکھ دیتا ہے۔ پھر اسی اپنی سنت کے اظہار میں خدا تعالیٰ ایک اور جگہ فرماتا ہے۔ انْطَلِقُوا إِلى ظِلَّ ذِي ثَلَثِ شُعَبٍ لَّا ظُلِيْلٍ وَلَا يُغْنِى مِنَ اللَّهَبِ یعنی اے بد کارو! گمراہو! سہ گوشہ سایہ کی طرف چلو جس کی تین شاخیں ہیں۔ جو سایہ کا کام نہیں دے سکتیں اور نہ گرمی سے بچا سکتی ہیں۔ اس آیت میں تین شاخوں سے مراد قوت سبھی اور بہیمی اور وہمی ہے۔ جو لوگ ان تینوں قوتوں کو اخلاقی رنگ میں نہیں لاتے اور ان کی تعدیل نہیں کرتے ان کی یہ قوتیں قیامت میں اس طرح پر نمودار کی جائیں گی کہ گویا تین شاخیں بغیر چوں کے کھڑی ہیں اور گرمی سے بچا نہیں سکتیں ۔ اور وہ گرمی سے جلیں گے۔ پھر ایسا ہی خدا تعالیٰ اپنی اسی سنت کے اظہار کے لئے بہشتیوں کے حق میں فرماتا ہے۔ المرسلت: ۳۲۳۱