اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 414
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۰۸ اسلامی اصول کی فلاسفی مرنے کے بعد ہی جنت میں آرام پائیں گے چنانچہ اس قسم کی آیتیں قرآن شریف میں بکثرت ہیں کہ بجر دموت کے ہر ایک انسان اپنے اعمال کی جزا دیکھ لیتا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ ایک بہشتی کے بارے میں خبر دیتا ہے اور فرماتا ہے۔ فرماتا ہے۔ قِيْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ۔ یعنی اس کو کہا گیا کہ تو بہشت میں داخل ہو اور ایسا ہی ایک دوزخی کی خبر دے کر فَرَاهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ یعنی ایک بہشتی کا ایک دوست دوزخی تھا۔ جب وہ دونوں مر گئے تو بہشتی حیران تھا کہ ۲۵ میرا دوست کہاں ہے۔ پس اس کو دکھلایا گیا کہ وہ جہنم کے درمیان ہے۔ سو جزا سزا کی کارروائی تو بلا توقف شروع ہو جاتی ہے اور دوزخی دوزخ میں اور بہشتی بہشت میں جاتے ہیں مگر اس کے بعد ایک اور تحجتی اعلیٰ کا دن ہے جو خدا کی بڑی حکمت نے اس دن کے ظاہر کرنے کا تقاضا کیا ہے ۔ کیونکہ اس نے انسان کو پیدا کیا تا وہ اپنی خالقیت کے ساتھ شناخت کیا جائے اور پھر وہ سب کو ہلاک کرے گا تا کہ وہ اپنی قہاریت کے ساتھ شناخت کیا جائے اور پھر ایک دن سب کو کامل زندگی بخش کر ایک میدان میں جمع کرے گا تا کہ وہ اپنی قادریت کے ساتھ پہچانا جائے ۔ اب جاننا چاہیے کہ دقائق مذکورہ میں سے یہ پہلا دقیقہ معرفت تھا جس کا بیان ہوا۔ دوسرا دقیقه معرفت دوسرا دقیقہ معرفت جس کو عالم معاد کے متعلق قرآن شریف نے ذکر فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ عالم معاد میں وہ تمام امور جو دنیا میں روحانی تھے جسمانی طور پر متمثل ہوں گے خواہ عالم معاد میں برزخ کا درجہ ہو یا عالم بعث کا درجہ ۔ اس بارے میں جو کچھ خدا تعالیٰ نے يس : ۲۷ الصفت : ۵۶