اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 413 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 413

روحانی خزائن جلدها ۴۰۷ اسلامی اصول کی فلاسفی اَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقْدِرِ عَلَى أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلَى وَهُوَ الْخَلْقُ الْعَلِيمُ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ فَسُبْحْنَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ یعنی کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو ایک قطرہ پانی سے پیدا کیا جو رحم میں ڈالا گیا تھا پھر وہ ایک جھگڑنے والا آدمی بن گیا۔ ہمارے لئے باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش بھول گیا اور کہنے لگا کہ یہ کیوں کر ممکن ہے کہ جب کہ ہڈیاں بھی سلامت نہیں رہیں گی تو پھر انسان نئے سرے زندہ ہوگا۔ ایسی قدرت والا کون ہے جو اس کو زندہ کرے گا۔ ان کو کہہ وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے اس کو پیدا کیا تھا اور وہ ہر ایک قسم سے اور ہر ایک راہ سے زندہ کرنا جانتا ہے۔ اس کے حکم کی یہ شان ہے کہ جب کسی چیز کے ہونے کا ارادہ کرتا ہے تو صرف یہی کہتا ہے کہ ہو پس وہ چیز پیدا ہو جاتی ہے۔ پس وہ ذات پاک ہے جس کی ہر ایک چیز پر بادشاہی ہے اور تم سب اسی کی طرف رجوع کرو گے۔ سو ان آیات میں اللہ جل شانہ نے فرما دیا ہے کہ خدا کے آگے کوئی چیز انہونی نہیں جس نے ایک قطرہ حقیر سے انسان کو پیدا کیا۔ کیا وہ دوسری مرتبہ پیدا کرنے سے عاجز ہے؟ اس جگہ ایک اور سوال نا واقفوں کی طرف سے ہو سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جس حالت میں تیسرا عالم جو عالم بعث ہے مدت دراز کے بعد آئے گا تو اس صورت میں ہر ایک نیک و بد کے لئے عالم برزخ صرف بطور حوالات کے ہوا جو ایک امر عبث معلوم ہوتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا سمجھنا سراسر غلطی ہے جو محض نا واقعی سے پیدا ہوتی ہے بلکہ خدا کی کتاب میں نیک و بد کی جزا کے لئے دو مقام پائے جاتے ہیں ۔ ایک عالم برزخ جس میں مخفی طور پر ہر ایک شخص اپنی جزا پائے گا۔ برے لوگ مرنے کے بعد ہی جہنم میں داخل ہوں گے۔ نیک لوگ ايس ۸۲ تا ۸۴