اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 411 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 411

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۰۵ اسلامی اصول کی فلاسفی اصول کے رو سے جسم کی رفاقت روح کے ساتھ دائی ہے ۔ گوموت کے بعد یہ فانی جسم روح سے الگ ہو جاتا ہے مگر عالم برزخ میں مستعار طور پر ہر ایک روح کو کسی قدر اپنے اعمال کا مزہ چکھنے کے لئے جسم ملتا ہے۔ وہ جسم اس جسم کی قسم میں سے نہیں ہوتا بلکہ ایک نور سے یا ا ایک تاریکی سے جیسا کہ اعمال کی صورت ہو جسم طیار ہوتا ہے۔ گویا کہ اس عالم میں انسان کی عملی حالتیں جسم کا کام دیتی ہیں۔ ایسا ہی خدا کے کلام میں بار بار ذکر آیا ہے اور بعض جسم نورانی اور بعض ظلمانی قرار دیئے ہیں جو اعمال کی روشنی یا اعمال کی ظلمت سے طیار ہوتے ہیں۔ اگر چہ یہ راز ایک نہایت دقیق راز ہے مگر غیر معقول نہیں۔ انسان کامل اسی زندگی میں ایک نورانی وجود اس کیفیت جسم کے علاوہ پاسکتا ہے اور عالم مکاشفات میں اس کی بہت مثالیں ہیں۔ اگر چہ ایسے شخص کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے جو صرف ایک موٹی عقل کی حد تک ٹھہرا ہوا ہے لیکن جن کو عالم مکاشفات میں سے کچھ حصہ ہے وہ اس قسم کے جسم کو جو اعمال سے طیار ہوتا ہے تعجب اور استبعاد کی نگہ سے نہیں دیکھیں گے بلکہ اس مضمون سے لذت اٹھا ئیں گے۔ غرض یہ جسم جو اعمال کی کیفیت سے ملتا ہے یہی عالم برزخ میں نیک و بد کی جزاء کا موجب ہو جاتا ہے۔ میں اس میں صاحب تجربہ ہوں ۔ مجھے کشفی طور پر عین بیداری میں بارہا بعض مردوں کی ملاقات کا اتفاق ہوا ہے اور میں نے بعض فاسقوں اور گمراہی اختیار کرنے والوں کا جسم ایسا سیاہ دیکھا ہے کہ گویا وہ دھویں سے بنایا گیا ہے۔ غرض میں اس کو چہ سے ذاتی واقفیت رکھتا ہوں اور میں زور سے کہتا ہوں کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے ایسا ہی ضرور مرنے کے بعد ہر ایک کو ایک جسم ملتا ہے خواہ نورانی خواہ ظلمانی ۔ انسان کی یہ غلطی ہوگی اگر وہ ان نہایت باریک معارف کو صرف عقل کے ذریعہ سے ثابت کرنا چاہے بلکہ جاننا چاہیے کہ جیسا کہ آنکھ شیریں چیز کا مزہ نہیں بتلا سکتی اور نہ زبان کسی چیز کو دیکھ سکتی ہے ایسا ہی وہ علوم معاد جو پاک مکاشفات سے حاصل ہو سکتے ہیں صرف عقل کے ذریعہ سے ان کا عقدہ حل نہیں ہو سکتا۔ خدا نے اس دنیا میں مجہولات کے جاننے کیلئے علیحدہ علیحدہ وسائل رکھے ہیں۔ پس ہر ایک