اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 410 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 410

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۰۴ اسلامی اصول کی فلاسفی ہو جاتے ہیں اور دماغ میں اب کسی قسم کا تشیخ ہو جائے یا ورم پیدا ہو یا خون یا کوئی اور مادہ ٹھہر جائے اور کسی سنہ تام یا غیر تام کو پیدا کرے تو غشی یا مرگی یا سکتہ معالا حق حال ہو جاتا ہے۔ پس ہمارا قدیم کا تجربہ ہمیں یقینی طور پر سکھلاتا ہے کہ ہماری روح بغیر تعلق جسم کے بالکل نکھی ہے۔ سو یہ بات بالکل باطل ہے کہ ہم ایسا خیال کریں کہ کسی وقت میں ہماری مجرد روح جس کے ساتھ جسم نہیں ہے کسی خوشحالی کو پا سکتی ہے۔ اگر ہم قصہ کے طور پر اس کو قبول کریں تو کریں لیکن معقولی طور پر اس کے ساتھ کوئی دلیل نہیں۔ ہم بالکل سمجھ نہیں سکتے کہ وہ ہماری روح جسم کے ادنی ادنی خلل کے وقت بریکار ہو کر بیٹھ جاتی ہے وہ اس روز کیونکر کامل حالت پر رہے گی جبکہ بالکل جسم کے تعلقات سے محروم کی جائے گی۔ کیا ہر روز ہمیں تجربہ نہیں سمجھا تا کہ روح کی صحت کے لئے جسم کی صحت ضروری ہے۔ جب ایک شخص ہم میں سے پیر فرتوت ہو جاتا ہے تو ساتھ ہی اس کی روح بھی بوڑھی ہو جاتی ہے۔ اس کا تمام علمی سرمایہ بڑھاپے کا چور چرا کر لے جاتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا یعنی انسان بڑھا ہو کر ایسی حالت تک پہنچ جاتا ہے کہ پڑھ پڑھا کر پھر جاہل بن جاتا ہے۔ پس ہمارا یہ مشاہدہ اس بات پر کافی دلیل ہے کہ روح بغیر جسم کے کچھ چیز نہیں۔ پھر یہ خیال بھی انسان کو حقیقی سچائی کی طرف توجہ دلاتا ہے اگر روح بغیر جسم کے کچھ چیز ہوتی تو خدا تعالیٰ کا یہ کام لغو شہر تا کہ اس کو خواہ نخواہ جسم فانی سے پیوند دے دیتا۔ اور پھر یہ بھی سوچنے کے لائق ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو غیر متناہی ترقیات کے لئے پیدا کیا ہے۔ پس جس حالت میں انسان اس مختصر زندگی کی ترقیات کو بغیر رفاقت جسم کے حاصل نہیں کر سکا تو کیوں کر امید رکھیں کہ ان نا منا ہی ترقیات کو جو نا پیدا کنار ہیں بغیر رفاقت جسم کے خود بخود حاصل کرلے گا۔ سوان تمام دلائل سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ روح کے افعال کا ملہ صادر ہونے کیلئے اسلامی الحج :