اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 409 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 409

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۰۳ اسلامی اصول کی فلاسفہ اوّل: دنیا جس کا نام عالم کسب اور نشاء اولی ہے اسی دنیا میں انسان اکتساب نیکی کا یا بدی کا کرتا ہے اور اگر چہ عالم بحث میں نیکوں کے واسطے ترقیات ہیں مگر وہ محض خدا کے فضل سے ہیں۔ انسان کے کسب کو ان میں دخل نہیں۔ (۲) اور دوسرے عالم کا نام برزخ ہے۔ اصل میں لفظ برزخ لغت عرب میں اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو دو چیزوں کے درمیان واقع ہو۔ سو چونکہ یہ زمانہ عالم بعث اور عالم نشاء اولیٰ میں واقع ہے۔ اس لئے اس کا نام برزخ ہے لیکن یہ لفظ قدیم سے اور جب سے کہ دنیا کی بناء پڑی عالم درمیانی پر بولا گیا ہے۔ اس لئے اس لفظ میں عالم درمیانی کے وجود پر ایک عظیم الشان شہادت مخفی ہے ۔ منن الرحمن میں ثابت کر چکے ہیں کہ عربی کے الفاظ وہ الفاظ ہیں جو خدا کے منہ سے نکلے ہیں اور دنیا میں فقط یہی ایک زبان ہے جو خدائے قدوس کی زبان اور قدیم اور تمام علوم کا سر چشمہ اور تمام زبانوں کی ما اور خدا کی وحی کا پہلا اور پچھلا تخت گاہ ہے۔ خدا کی وحی کا پہلا تخت گاہ اس لئے کہ تمام عربی خدا کا کلام تھا جو قدیم سے خدا کے ساتھ تھا۔ پھر وہی کلام دنیا میں اترا اور دنیا نے اس سے اپنی بولیاں بنا ئیں ۔ اور آخری تخت گاہ خدا کا اس لئے لغت عربی ٹھہری کہ آخری کتاب خدا تعالیٰ کی جو قرآن شریف ہے ۔ عربی میں نازل ہوئی۔ سو برزخ عربی لفظ ہے جو مرکب ہے رخ اور بر سے جس کے معنے یہ ہیں کہ طریق کسب ۶۲ اعمال ختم ہو گیا اور ایک مخفی حالت میں پڑ گیا۔ برزخ کی حالت وہ حالت ہے کہ جب یہ نا پائیدار ترکیب انسانی تفرق پذیر ہو جاتی ہے اور روح الگ اور جسم الگ ہو جاتا ہے اور جیسا کہ دیکھا گیا ہے جسم کسی گڑھے میں ڈال دیا جاتا ہے اور روح بھی ایک قسم کے گڑھے میں پڑ جاتی ہے جس پر لفظ زخ کا دلالت کرتا ہے کیونکہ وہ افعال کسب خیر یا شر پر قادر نہیں ہوسکتی کہ جو جسم کے تعلقات سے اس سے صادر ہو سکتے تھے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ہماری روح کی عمدہ صحت جسم پر موقوف ہے۔ دماغ کے ایک خاص حصہ پر چوٹ لگنے سے حافظہ جاتا رہتا ہے اور دوسرے حصہ پر آفت پہنچنے سے قوت متشکرہ رخصت ہوتی ہے اور تمام ہوش و حواس رخصت حمید اصل مسودہ میں ” ہم اپنی کتاب “ کے الفاظ بھی مرقوم ہیں ۔ ( ناشر )