اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 406 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 406

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۰۰ اسلامی اصول کی فلاسفی جس کا نمونہ شوق دلانے کے لئے پہلے ہی دیا جاتا ہے۔ یا درکھنا چاہیے کہ با خدا آدمی دنیا میں سے نہیں ہوتا اس لئے تو دنیا اس سے بغض رکھتی ہے بلکہ وہ آسمان سے ہوتا ہے اس لئے آسمانی نعمت اس کو ملتی ہے۔ دنیا کا آدمی دنیا کی نعمتیں پاتا ہے اور آسمان کا آسمانی نعمتیں حاصل کرتا ہے۔ سو یہ بالکل سچ ہے کہ وہ نعمتیں دنیا کے کانوں اور دنیا کے دلوں اور دنیا کی آنکھوں سے چھپائی گئیں لیکن جس کی دنیوی زندگی پر موت آ جائے ۲۰ اور وہ پیالہ روحانی طور پر اس کو پلایا جائے جو آگے جسمانی طور پر پیا جائے گا اس کو یہ پینا اس وقت یاد آ جائے گا جبکہ وہی پیالہ جسمانی طور پر اس کو دیا جائے گا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہ اس نعمت سے دنیا کی آنکھ اور کان وغیرہ کو بے خبر سمجھے گا۔ چونکہ وہ دنیا میں تھا اگر چہ دنیا میں سے نہیں تھا اس لئے وہ بھی گواہی دے گا کہ دنیا کی نعمتوں سے وہ نعمت نہیں۔ نہ دنیا میں اس کی آنکھ نے ایسی نعمت دیکھی نہ کان نے سنی اور نہ دل میں گذری لیکن دوسری زندگی میں اس کے نمونے دیکھے جو دنیا میں سے نہیں تھے بلکہ وہ آنے والے جہان کی ایک خبر تھی اور اُسی سے اُس کا رشتہ اور تعلق تھا۔ دنیا سے کچھ تعلق نہیں تھا۔ عالم معاد کے متعلق تین قرآنی معارف اب قاعدہ کلی کے طور پر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ موت کے بعد جو حالتیں پیش آتی ہیں۔ قرآن شریف نے انہیں تین قسم پر منقسم کیا ہے اور عالم معاد کے متعلق یہ تین قرآنی معارف ہیں جن کو ہم جدا جدا اس جگہ ذکر کرتے ہیں۔ پہلا دقیقہ معرفت اول۔ یہ دقیقہ معرفت ہے کہ قرآن شریف بار بار یہی فرماتا ہے کہ عالم آخرت کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ اسکے تمام نظارے اسی دنیوی زندگی کے اظلال و آثار ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَكُلَّ إِنْسَانِ الْزَمْنَهُ طَبِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ كتبًا يَّلْقُهُ مَنْشُورًا بنی اسرائیل:۱۴