اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 407

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۰۱ اسلامی اصول کی فلاسفی یعنی ہم نے اسی دنیا میں ہر ایک شخص کے اعمال کا اثر اس کی گردن سے باندھ رکھا ہے اور انہیں پوشیدہ اثروں کو ہم قیامت کے دن ظاہر کر دیں گے اور ایک کھلے کھلے اعمال نامہ کی شکل پر دکھلا دیں گے۔ اس آیت میں جو طائرکا لفظ ہے تو واضح ہو کہ طائر اصل میں پرندہ کو کہتے ہیں پھر استعارہ کے طور پر اس سے مراد عمل بھی لیا گیا ہے کیونکہ ہر ایک عمل نیک ہو یا بد ہو وہ وقوع کے بعد پرندہ کی طرح پرواز کر جاتا ہے اور مشقت یا لذت اس کی کالعدم ہو جاتی ہے اور دل پر اس کی کثافت یا لطافت باقی رہ جاتی ہے۔ یہ قرآنی اصول ہے کہ ہر ایک عمل پوشیدہ طور پر اپنے نقوش جماتا رہتا ہے جس طور کا انسان کا فعل ہوتا ہے اس کے مناسب حال ایک خدا تعالی کا فعل صادر ہوتا ہے اور دو فعل اس گناہ کو یا اس کی نیکی کو ضائع ہونے نہیں دیتا بلکہ اس کے نقوش دل پر، منہ پر، آنکھوں پر کانوں پر، ہاتھوں پر، پیروں پر لکھے جاتے ہیں اور یہی پوشیدہ طور پر ایک اعمالنامہ ہے جو دوسری زندگی میں کھلے طور پر ظاہر ہو جائے گا۔ اور پھر ایک دوسری جگہ بہشتیوں کے بارے میں فرماتا ہے۔ يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ ! یعنی اس دن بھی ایمانی نور جو پوشیدہ طور پر مومنوں کو حاصل ہے کھلے کھلے طور پر ان کے آگے اور ان کے داہنے ہاتھ پر دوڑ تا نظر آئے گا۔ پھر ایک اور جگہ بدکاروں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔ الْهُكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الحديد: ۱۳