اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 400
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۹۴ اسلامی اصول کی فلاسفی اللہ تعالیٰ سے کامل روحانی تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ اب ہم پھر اصل مطلب کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ خدا کے ساتھ روحانی اور کامل تعلق پیدا ہونے کا ذریعہ جو قرآن شریف نے ہمیں سکھلایا ہے اسلام اور دعائے فاتحہ ہے یعنی اول اپنی تمام زندگی خدا کی راہ میں وقف کر دینا اور پھر اس دعا میں لگے رہنا جو سورہ فاتحہ میں مسلمانوں کو سکھائی گئی ہے۔ تمام اسلام کا مغز یہ دونوں چیزیں ہیں۔ اسلام اور دعائے فاتحہ دنیا میں خدا تک پہنچنے اور حقیقی نجات کا پانی پینے کے لئے یہی ایک اعلیٰ ذریعہ ہے بلکہ یہی ایک ذریعہ ہے جو قانون قدرت نے انسان کی اعلیٰ ترقی اور وصال الہی کے لئے مقرر کیا ہے اور وہی خدا کو پاتے ہیں کہ جو اسلام کے مفہوم کی روحانی آگ میں داخل ہوں اور دعائے فاتحہ میں (۵۲) لگے رہیں۔ اسلام کیا چیز ہے۔ وہی جلتی ہوئی آگ جو ہماری سفلی زندگی کو بھسم کر کے اور ہمارے باطل معبودوں کو جلا کر بچے اور پاک معبود کے آگے ہماری جان اور ہمارے مال اور ہماری آبرو کی قربانی پیش کرتی ہے۔ ایسے چشمہ میں داخل ہو کر ہم ایک نئی زندگی کا پانی پیتے ہیں اور ہماری تمام روحانی قوتیں خدا سے یوں پیوند پکڑتی ہیں جیسا کہ ایک رشتہ دوسرے رشتہ سے پیوند کیا جاتا ہے۔ بجلی کی آگ کی طرح ایک آگ ہمارے اندر سے نکلتی ہے اور ایک آگ اوپر سے ہم پر اترتی ہے ان دونوں شعلوں کے ملنے سے ہماری تمام ہوا و ہوس اور غیر اللہ کی محبت بھسم ہو جاتی ہے اور ہم اپنی پہلی زندگی سے مر جاتے ہیں۔ اس حالت کا نام قرآن شریف کے رو سے اسلام ہے۔ اسلام سے ہمارے نفسانی جذبات کو موت آتی ہے۔ اور پھر دعا سے ہم از سر نو زندہ ہوتے ہیں۔ اس دوسری زندگی کے لئے الہام الہی ہونا ضروری ہے۔ اس مرتبہ پر پہنچنے کا نام لقاء الہی ہے یعنی خدا کا دیدار اور خدا کا درشن ۔ اس درجہ پر پہنچ کر انسان کو خدا سے وہ اتصال ہوتا ہے کہ گویا وہ اس کو آنکھ سے دیکھتا ہے۔ اور اس کو قوت دی جاتی ہے اور اس کے تمام حواس اور تمام اندرونی قوتیں روشن کی جاتی ہیں اور پاک زندگی کی کشش بڑے زور سے شروع ہو جاتی ہے۔ اسی درجہ پر آکر خدا انسان کی آنکھ ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ دیکھتا ہے