اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 399
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۹۳ اسلامی اصول کی فلاسفی ذال کو زا کے ساتھ بدل دیا ہے۔ اب حاصل کلام یہ ہے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی دنیا کے ایمانی کلمات کو بہشت کے ساتھ مشابہت دی ہے۔ ایسا ہی اسی دنیا کے بے ایمانی کے کلمات کو زقوم کے ساتھ مشابہت دی اور اس کو دوزخ کا درخت ٹھہرایا اور ظاہر فرما دیا کہ بہشت اور دوزخ کی جڑ اسی دنیا سے شروع ہوتی ہے جیسا کہ دوزخ کے باب میں ایک اور جگہ فرماتا ہے۔ نَارُ اللهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ یعنی دوزخ وہ آگ ہے جو خدا کا غضب اس کا منبع ہے اور گناہ سے بھڑکتی ہے اور پہلے دل پر غالب ہوتی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس آگ کی اصل جڑ وہ غم اور حسرتیں اور درد ہیں جو دل کو پکڑتے ہیں کیونکہ تمام روحانی عذاب پہلے دل سے ہی شروع ہوتے ہیں اور پھر تمام بدن پر محیط ہو جاتے ہیں اور پھر ایک جگہ فرمایا۔ وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ! یعنی جہنم کی آگ کا ایندھن جس سے وہ آگ ہمیشہ افروختہ رہتی ہے۔ دو چیزیں ہیں ایک وہ انسان جو حقیقی خدا کو چھوڑ کر اور اور چیزوں کی پرستش کرتے ہیں یا ان کی مرضی سے ان کی پرستش کی جاتی ہے جیسا کہ فرمایا۔ إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۳ یعنی تم اور تمہارے معبود باطل جو انسان ہو کر خدا کہلاتے رہے جہنم میں ڈالے جائیں گے (۲) دوسرا ایندھن جہنم کا بت ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں کا وجود نہ ہوتا تو جہنم بھی نہ ہوتا۔ سو ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کے پاک کلام میں بہشت اور دوزخ اس جسمانی دنیا کی طرح نہیں ہے بلکہ ان دونوں کا مبداء اور منبع روحانی امور ہیں۔ ہاں دو چیزیں دوسرے عالم میں جسمانی شکل پر نظر آئیں گی مگر اس جسمانی عالم سے نہیں ہوں گی۔ الهمزة : ۸،۷ البقرة: ۲۵ الانبياء : ٩٩