اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 398 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 398

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۹۲ اسلامی اصول کی فلا قانون قدرت کی رو سے ۔ صرف قصہ اور کہانی کے رنگ میں ہوتا ہے اور جیسا کہ قرآن شریف نے عالم آخرت میں ایمان کے پاک درختوں کو انگور اور انار اور عمدہ عمدہ میووں سے مشابہت دی ہے اور بیان فرمایا ہے کہ اس روز وہ ان میووں کی صورت میں متمثل ہوں گے اور دکھائی دیں گے ۔ ایسا ہی بے ایمانی کے خبیث درخت کا نام عالم آخرت میں زقوم رکھا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے: اذلِكَ خَيْرٌ نُّزُ لَّا أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُوْمِ إِنَّا جَعَلْنَهَا فِتْنَةَ لِلظَّلِمِيْنَ إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيْطِيْنِ إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُوْمِ طَعَامُ الْآثِيْمِ كَالْمُهْلِ يَغْلِيُّ فِي الْبُطُونِ كَغَلْيِ الْحَمِيمِ ۔۔۔ ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ ! یعنی تم بتلاؤ کہ بہشت کے باغ اچھے ہیں یا ز قوم کا درخت۔ جو ظالموں کے لئے ایک بلا ہے۔ وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے یعنی تکبر اور خود بینی سے پیدا ہوتا ہے یہی دوزخ کی جڑ ہے اس کا شگوفہ ایسا ہے جیسا کہ شیطان کا سر۔ شیطان کے معنے ہیں ہلاک ہونے والا۔ یہ لفظ شیط سے نکلا ہے۔ پس حاصل کلام یہ ہے کہ اس کا کھانا ہلاک ہونا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ زقوم کا درخت ان دوزخیوں کا کھانا ہے جو عمدا گناہ کو اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ کھانا (۵۵) ایسا ہے جیسا کہ تانبا گلا ہوا کھولتے ہوئے پانی کی طرح پیٹ میں جوش مارنے والا ۔ پھر دوزخی کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اس درخت کو چکھ ، تو عزت والا اور بزرگ ہے۔ یہ کلام نہایت غضب کا ہے۔ اس کا ماحصل یہ ہے کہ اگر تو تکبر نہ کرتا اور اپنی بزرگی اور عزت کا پاس کر کے حق سے منہ نہ پھیرتا تو آج یہ تلخیاں تجھے اٹھائی نہ پڑتیں۔ یہ آیت اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ دراصل یہ لفظ زقوم کا ذق اور آہ سے مرکب ہے اور ام إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ کا شخص ہے جس میں ایک حرف پہلے کا اور ایک حرف آخر کا موجود ہے اور کثرت استعمال نے ہ اصل مسودہ میں ” اور نہ کانشنس کی رو سے “ کے الفاظ بھی مرقوم ہیں ۔ ( ناشر ) ا الصفت: ۶۳ تا ۶۶ الدخان : ۴۴ تا ۵۰