اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 397 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 397

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۹۱ اسلامی اصول کی فلاسفی فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِيْنِ یعنی وہ ایمانی کلمہ جو ہر ایک افراط تفریط اور نقص اور خلل اور کذب اور ہنرل سے پاک (۵۴) اور من کل الوجوہ کامل ہو ۔ اس درخت کے ساتھ مشابہ ہے جو ہر ایک عیب سے پاک ہو جس کی جڑ زمین میں قائم اور شاخیں آسمان میں ہوں اور اپنے پھل کو ہمیشہ دیتا ہو اور کوئی وقت اس پر نہیں آتا کہ اس کی شاخوں میں پھل نہ ہوں۔ اس بیان میں خدا تعالیٰ نے ایمانی کلمہ کو ہمیشہ پھل دار درخت سے مشابہت دے کر تین علامتیں اس کی بیان فرمائیں۔ (۱) اوّل یہ کہ جڑ اس کی جو اصل مفہوم سے مراد ہے انسان کے دل کی زمین میں ثابت ہو یعنی انسانی فطرت اور انسانی کانشنس نے اس کی حقانیت اور اصلیت کو قبول کر لیا ہو۔ (۲) دوسری علامت یہ کہ اس کلمہ کی شاخیں آسمان میں ہوں یعنی معقولیت اپنے ساتھ رکھتا ہو اور آسمانی قانون قدرت جو خدا کا فعل ہے اس فعل کے مطابق ہو ۔ مطلب یہ کہ اس کی صحت اور اصلیت کے دلائل قانون قدرت سے مستنبط ہو سکتے ہوں اور نیز یہ کہ وہ دلائل ایسے اعلیٰ ہوں کہ گویا آسمان میں ہیں جن تک اعتراض کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا۔ (۳) تیسری علامت یہ ہے کہ وہ پھل جو کھانے کے لائق ہے دائمی اور غیر منقطع ہو یعنی عملی مزاولت کے بعد اس کی برکات و تاثیرات ہمیشہ اور ہر زمانہ میں مشہود اور محسوس ہوتی ہوں ۔ یہ نہیں کہ کسی خاص زمانہ تک ظاہر ہو کر پھر آگے بند ہو جائیں۔ اور پھر فرمایا۔ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةِ وَاجْتُنَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ یعنی پلید کلمہ اس درخت کے ساتھ مشابہ ہے جو زمین میں اکھڑا ہوا ہو یعنی فطرت انسانی اس کو قبول نہیں کرتی اور کسی طور سے وہ قرار نہیں پکڑتا۔ نہ دلائل عقلیہ کی رو سے نہ ابراهیم: ۲۶،۲۵ ابراهيم : ۲۷