اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 396 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 396

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۹۰ اسلامی اصول کی فلاسفی کھوتے ہیں۔ غرض مفہوم اس آیت کا یہی ہے کہ بہشتی زندگی کی بنیاد اسی جہان سے پڑتی ہے اور جہنمی نابینائی کی جڑ بھی اسی جہان کی گندہ اور کورانہ زیست ہے اور پھر فرمایا۔ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّةٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهرُ یعنی جولوگ ایمان لاتے اور اچھے عمل بجالاتے ہیں وہ ان باغوں کے وارث ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے ایمان کو باغ کے ساتھ مشابہت دی جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ پس واضح رہے کہ اس جگہ ایک اعلیٰ درجہ کی فلاسفی کے رنگ میں بتلایا گیا ہے کہ جو رشتہ شہروں کا باغ کے ساتھ ہے وہی رشتہ اعمال کا ایمان کے ساتھ ہے۔ پس جیسا کہ کوئی باغ بغیر پانی کے سرسبز نہیں رہ سکتا ایسا ہی کوئی ایمان بغیر نیک کاموں کے زندہ ایمان نہیں کہلا سکتا اگر ایمان ہو اور اعمال نہ ہوں تو وہ ایمان بیچ ہے اور اگر اعمال ہوں اور ایمان نہ ہو تو وہ اعمال ریا کاری ہیں۔ اسلامی بہشت کی یہی حقیقت ہے کہ وہ اس دنیا کے ایمان اور عمل کا ایک ظل ہے وہ کوئی نئی چیز نہیں جو باہر سے آکر انسان کو ملے گی بلکہ انسان کی بہشت انسان کے اندر ہی سے نکلتی ہے اور ہر ایک کی بہشت اس کا ایمان اور اسی کے اعمال صالحہ ہیں جن کی اسی دنیا میں لذت شروع ہو جاتی ہے اور پوشیدہ طور پر ایمان اور اعمال کے باغ نظر آتے ہیں اور نہریں بھی دکھائی دیتی ہیں لیکن عالم آخرت میں یہی باغ کھلے طور پر محسوس ہوں گے۔ خدا کی پاک تعلیم ہمیں یہی بتلاتی ہے کہ سچا اور پاک اور مستحکم اور کامل ایمان جو خدا اور اس کے ارادوں کے متعلق ہو وہ بہشت خوش نما اور بارور درخت ہے اور اعمال صالحہ اس بہشت کی نہریں ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةٌ طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيْبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا ل البقرة: ۲۶ حملا اصل مسودہ میں ” اور اس کی ذات اور اس کی صفات “ کے الفاظ بھی مرقوم ہیں۔ (ناشر)