اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 392 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 392

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۸۶ اسلامی اصول کی فلاسفی إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ سَلْسِلَا وَاغْلُلًا وَسَعِيرًا ، وَمَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا ل یعنی جو شخص خدا تعالیٰ سے خائف ہے اور اس کی عظمت و جلال کے مرتبہ سے ہراساں ہے اس کے لئے دو بہشت ہیں۔ ایک یہی دنیا اور دوسری آخرت اور ایسے لوگ جو خدا میں محو ہیں خدا نے ان کو وہ شربت پلایا ہے جس نے ان کے دل اور خیالات اور ارادات کو پاک کر دیا۔ نیک بندے وہ شربت پی رہے ہیں جس کی ملونی کافور ہے۔ وہ اس چشمہ سے پیتے ہیں جس کو وہ آپ ہی چیرتے ہیں۔ کافوری اور زنجبیلی شربت کی حقیقت اور میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ کا فور کا لفظ اس واسطے اس آیت میں اختیار فرمایا گیا ہے کہ لغت عرب میں کفر دبانے کو اور ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔ سو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے ایسے خلوص سے انقطاع اور رجوع الی اللہ کا پیالہ پیا ہے کہ دنیا کی محبت بالکل ٹھنڈی ہوگئی ہے۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ تمام جذبات دل کے خیال سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اور جب دل نالائق خیالات سے بہت ہی دور چلا جائے اور کچھ تعلقات ان سے باقی نہ رہیں تو وہ جذبات بھی آہستہ آہستہ کم ہونے لگتے ہیں یہاں تک کہ نابود ہو جاتے ہیں ۔سواس جگہ خدا تعالی کی یہی غرض ہے اور وہ اس آیت میں یہی سمجھاتا ہے کہ جو اس کی طرف کامل طور سے جھک گئے وہ نفسانی جذبات سے بہت ہی دور نکل گئے ہیں اور ایسے خدا کی طرف جھکے کہ دنیا کی سرگرمیوں سے ان کے دل ٹھنڈے ہو گئے اور ان کے جذبات ایسے دب گئے جیسا کہ کا فورزہریلے مادوں کو دبا دیتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ وہ لوگ اس کا فوری پیالہ کے بعد وہ پیالے پیتے ہیں جن کی ملونی بھیل ہے۔ اب جاننا چاہیے کہ زکھیل دو لفظوں سے مرکب ہے یعنی زنا اور جہل سے۔ اور زنا الدهر : ۵ ے بنی اسرائیل: ۷۳