اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 385 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 385

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۷۹ اسلامی اصول کی فلاسفی ہے اور عادات میں ایک تبدل عظیم پیدا ہوتا ہے اور انسان اپنی پہلی حالتوں سے بہت ہی دور جا پڑتا ہے، دھویا جاتا ہے اور صاف کیا جاتا ہے اور خدا نیکی کی محبت کو اپنے ہاتھ سے اس کے دل میں لکھ دیتا ہے اور بدی کا گند اپنے ہاتھ سے اس کے دل سے باہر پھینک دیتا ہے۔سچائی کی فوج سب کی سب دل کے شہرستان میں آجاتی ہے۔ اور فطرت کے تمام برجوں پر راستبازی کا قبضہ ہو جاتا ہے اور حق کی فتح ہوتی ہے اور باطل بھاگ جاتا ہے اور اپنے ہتھیار پھینک دیتا ہے۔ اس شخص کے دل پر خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور ہر ایک قدم خدا کے زیر سایہ چلتا ہے چنانچہ خدا تعالیٰ آیات ذیل میں انہی امور کی طرف اشارہ فرماتا ہے۔ أو لَيْكَ كَتَبَ فِي قُلُوْبِهِمُ الْإِيْمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوْجٍ مِّنْهُ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَيكَ هُمُ الرَّشِدُونَ فَضْلًا مِنَ اللهِ وَنِعْمَةً وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (۲۷) جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ل یعنی خدا نے مومنوں کے دل میں ایمان کو اپنے ہاتھ سے لکھ دیا ہے اور روح القدس کے ساتھ ان کی مدد کی۔ اس نے اے مومنو! ایمان کو تمہارا محبوب بنا دیا اور اس کا حسن و جمال تمہارے دل میں بٹھا دیا اور کفر اور بدکاری اور معصیت سے تمہارے دل کو نفرت دے دی اور بُری راہوں کا مکروہ ہونا تمہارے دل میں جما دیا۔ یہ سب کچھ خدا کے فضل اور رحمت سے ہوا۔ حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل کب حق کے مقابل ٹھہر سکتا تھا۔ غرض یہ تمام اشارات اس روحانی حالت کی طرف ہیں جو تیسرے درجہ پر انسان کو حاصل ہوتی ہے اور بچی بینائی انسان کو کبھی نہیں مل سکتی جب تک یہ حالت اس کو حاصل نہ ہو اور یہ جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ایمان ان کے دل میں اپنے ہاتھ سے لکھا اور روح القدس سے ان کی مدد کی۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کو کچی طہارت اور پاکیزگی کبھی حاصل المجادلة :٢٣ الحجرات : ٩،٨ بنی اسرائیل : ۸۲