اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 378
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۷۲ اسلامی اصول کی فلاسفی صفات باری تعالی یہ دلائل وجود باری پر ہیں جو ہم نے بطور نمونہ کے لکھ دیئے ۔ بعد اس کے یہ بھی جاننا چاہیے کہ جس خدا کی طرف ہمیں قرآن شریف نے بلایا ہے اس کی اس نے یہ صفات لکھی ہیں ۔ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ ! مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ ] هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمُوتِ وَالْأَرْضِ وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ، عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ رَبِّ الْعُلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۔ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ لَ أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ - اَلْحَيُّ الْقَيُّومُ ^ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ۔ اللَّهُ الصَّمَدُ۔ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ۔ یعنی وہ خدا جو واحد لاشریک ہے جس کے سوا کوئی بھی پرستش اور فرمانبرداری کے لائق نہیں ۔ یہ اس لئے فرمایا کہ اگر وہ لاشریک نہ ہو تو شاید اس کی طاقت پر دشمن کی طاقت غالب آ جائے ۔ اس صورت میں خدائی معرض خطرہ میں رہے گی ۔ اور یہ جو فرمایا کہ اس کے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں اس سے یہ مطلب ہے کہ وہ ایسا کامل خدا ہے جس کی صفات اور خوبیاں اور کمالات ایسے اعلیٰ اور بلند ہیں کہ اگر موجودات میں سے بوجہ صفات کاملہ کے ایک خدا انتخاب کرنا چاہیں یا دل میں عمدہ سے عمدہ اور اعلیٰ سے اعلیٰ خدا کی صفات فرض کریں تو سب سے اعلیٰ جس سے بڑھ کر کوئی اعلیٰ نہیں ہو سکتا ۔ و ہو سکتا ۔ وہی خدا ہے ؟ اہے جس کی پرستش میں ادنی کو شریک کرنا ظلم ہے۔ پھر فرمایا کہ عالم الغیب ہے یعنی اپنی ذات کو آپ ہی جانتا ہے ا الحشر: ۲۳ ۲ الفاتحة : - الحشر : ۲۴ الحشر: ۲۵ ۵ البقرة : ٢١ الفاتحة : ۲ تا ۴ ك البقرة : ۱۸۷ البقرة : ۲۵۶ و الاخلاص: ۲ تا ۵