اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 369
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۶۳ اسلامی اصول کی فلاسفی ہمدردی خلق اور منجملہ انسان کے طبعی امور کے جو اس کی طبیعت کے لازم حال ہیں ہمدردی خلق کا ایک جوش ہے۔ قومی حمایت کا ایک جوش بالطبع ہر ایک مذہب کے لوگوں میں پایا جاتا ہے اور اکثر لوگ طبعی جوش سے اپنی قوم کی ہمدردی کے لئے دوسروں پر ظلم کر دیتے ہیں۔ گویا انہیں انسان نہیں سمجھتے۔ سو اس حالت کو خلق نہیں کہہ سکتے ۔ یہ فقط ایک طبعی جوش ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ حالت طبعی کووں وغیرہ پرندوں میں بھی پائی جاتی ہے کہ ایک کو ے کے مرنے پر ہزار ہا کوے جمع ہو جاتے ہیں لیکن یہ عادت انسانی اخلاق میں اُس وقت داخل ہوگی جب کہ یہ ہمدردی انصاف اور عدل کی رعایت سے محل اور موقع پر ہو ۔ اُس وقت یہ ایک عظیم الشان خلق ہوگا جس کا نام عربی میں مواسات اور فارسی میں ہمدردی ہے۔ اسی کی طرف الله جل شانه قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے۔ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَلَا تَهِنُوا فِى ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ وَلَا تَكُنْ لِلْخَابِنِيْنَ خَصِيمًا " وَلَا تُجَادِلُ ط عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنْفُسَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَانًا أَثِيْمَاتُ یعنی اپنی قوم کی ہمدردی اور اعانت فقط نیکی کے کاموں میں کرنی چاہیے اور ظلم اور زیادتی کے کاموں میں ان کی اعانت ہر گز نہیں کرنی چاہیے اور قوم کی ہمدردی میں سرگرم رہو۔ تھکو مت اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے مت جھگڑو جو خیانت کرنے سے باز نہیں آتے ۔ خدا تعالی خیانت پیشہ لوگوں کو دوست نہیں رکھتا۔ ایک برتر ہستی کی تلاش منجملہ انسان کی طبعی حالتوں کے جو اس کی فطرت کو لازم پڑی ہوئی ہیں ایک برتر المائدة :٣ النساء : ۱۰۵ النساء : ١٠٦ النساء : ۱۰۸