اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 367
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۶۱ اسلامی اصول کی فلاسفی عَلَى الَّا تَعْدِلُوا وَالصَّدِقِينَ وَالصُّدِقْتِ ، وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ لَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ ) ترجمہ ۔ بتوں کی پرستش اور جھوٹھ بولنے سے پر ہیز کر ویعنی جھوٹھ بھی ایک بت ہے جس پر بھروسہ کرنے والا خدا کا بھروسہ چھوڑ دیتا ہے۔ سو جھوٹھ بولنے سے خدا بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔ اور پھر فرمایا کہ جب تم سچی گواہی کے لئے بلائے جاؤ تو جانے سے انکار مت کرو اور سچی گواہی کو مت چھپاؤ اور جو چھپائے گا اُس کا دل گنہگار ہے اور جب تم بولو تو وہی بات منہ پر لاؤ جو سراسر سیچ اور عدالت کی بات ہے۔ اگر چہ تم اپنے کسی قریبی پر گواہی دو ۔ حق اور انصاف پر قائم ہو جاؤ اور چاہیے کہ ہر ایک گواہی تمہاری خدا کے لئے ہو۔ جھوٹھ مت بولوا اگر چہ سچ بولنے سے تمہاری جانوں کو نقصان پہنچے یا اس سے تمہارے ماں باپ کو ضرر پہنچے یا اور قریبیوں کو جیسے بیٹے وغیرہ کو اور چاہیے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں سچی گواہی سے نہ روکے۔ سچے مرد اور سچی عورتیں بڑے بڑے اجر پائیں گے۔ ان کی عادت ہے کہ اوروں کو بھی سچ کی نصیحت دیتے ہیں اور جھوٹھوں کی مجلسوں میں نہیں بیٹھتے۔ صبر منجمله انسان کے طبعی امور کے ایک صبر ہے جو اس کو ان مصیبتوں اور بیماریوں اور دکھوں پر کرنا پڑتا ہے جو اس پر ہمیشہ پڑتے رہتے ہیں اور انسان بہت سے سیاپے اور جزع فزع کے بعد صبر اختیار کرتا ہے لیکن جاننا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی پاک کتاب کے رُو سے وہ صبر اخلاق میں داخل نہیں ہے بلکہ وہ ایک حالت ہے جو تھک جانے کے بعد ضرورتاً ظاہر ہو جاتی ہے یعنی انسان کی طبعی حالتوں میں سے یہ بھی ایک حالت ہے کہ وہ مصیبت کے ظاہر ہونے کے وقت پہلے روتا چیختا سر پیٹتا ہے۔ آخر بہت سا بخار نکال کر جوش تھم جاتا ہے اور انتہا تک پہنچ کر پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ پس یہ دونوں حرکتیں طبعی حالتیں ہیں ان کو خلق سے کچھ تعلق نہیں بلکہ اس کے المائدة : 9 الاحزاب : ٣٦ ٣ العصر : ۴ الفرقان : ۷۳ ۳۶