اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 366
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۶۰ اسلامی اصول کی فلاسفی اور ترک مقابلہ میں جو کچھ قرین مصلحت ہو وہ اختیار کر لیتا ہے۔ سچائی اور منجملہ انسان کی طبعی حالتوں کے جو اس کی فطرت کا خاصہ ہے۔سچائی ہے۔ انسان جب تک کوئی غرض نفسانی اس کی محرک نہ ہو جھوٹھ بولنا نہیں چاہتا اور جھوٹھ کے اختیار کرنے میں ایک طرح کی نفرت اور قبض اپنے دل میں پاتا ہے۔ اسی وجہ سے جس شخص کا صریح جھوٹھ ثابت ہو جائے اس سے ناخوش ہوتا ہے اور اس کو تحقیر کی نظر سے دیکھتا ہے لیکن صرف یہی طبعی حالت اخلاق میں داخل نہیں ہو سکتی بلکہ بچے اور دیوانے بھی اس کے پابند رہ سکتے ہیں۔سواصل حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسان ان نفسانی اغراض سے علیحدہ نہ ہو جو راست گوئی سے روک دیتے ہیں تب تک حقیقی طور پر راست گو نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ اگر انسان صرف ایسی باتوں میں سچ بولے جن میں اس کا چنداں حرج نہیں اور اپنی عزت یا مال یا جان کے نقصان کے وقت جھوٹھ بول جائے اور سچ بولنے سے خاموش رہے تو اس کو دیوانوں اور بچوں پر کیا فوقیت ہے۔ کیا پاگل اور نابالغ لڑکے بھی ایسا سچ نہیں بولتے ؟ دنیا میں ایسا کوئی بھی نہیں ہوگا کہ جو بغیر کسی تحریک کے خواہ نخواہ جھوٹھ بولے۔ پس ایسا سچ جو کسی نقصان کے وقت چھوڑا جائے حقیقی اخلاق میں ہرگز داخل نہیں ہوگا۔ سچ کے بولنے کا بڑا بھاری محل اور موقع وہی ہے جس میں اپنی جان یا مال یا آبرو کا اندیشہ ہو اس میں خدا کی یہ تعلیم ہے۔ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّةَ أَثِمَّ قَلْبُهُ وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبى ! كُوْنُوْا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ، وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ الحج: ٣١ البقرة : ۲۸۳ البقرة :۲۸۴ الانعام :۱۵۳ ه النساء : ١٣٦