اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 365
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۵۹ اسلامی اصول کی فلاسفی وَالصُّبِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِيْنَ الْبَأْسِ ، وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ : الَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ٣ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا ورِئَاءَ النَّاسِ " یعنی بہادر وہ ہیں کہ جب لڑائی کا موقع آ پڑے یا ان پر کوئی مصیبت آ پڑے تو بھاگتے نہیں۔ ان کا صبر لڑائی اور سختیوں کے وقت میں خدا کی رضامندی کے لئے ہوتا ہے اور اس کے چہرہ کے طالب ہوتے ہیں نہ کہ بہادری دکھلانے کے۔ ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ لوگ تمہیں سزا دینے کے لئے اتفاق کر گئے ہیں۔ سو تم لوگوں سے ڈرو۔ پس ڈرانے سے اور بھی ان کا ایمان (۳۵) بڑھتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ خدا ہمیں کافی ہے یعنی ان کی شجاعت درندوں اور کتوں کی طرح نہیں ہوتی جو صرف طبعی جوش پر مبنی ہو جس کا ایک ہی پہلو پر میل ہو بلکہ ان کی شجاعت دو پہلو رکھتی ہے کبھی تو وہ اپنی ذاتی شجاعت سے اپنے نفس کے جذبات کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس پر غالب آتے ہیں اور کبھی جب دیکھتے ہیں کہ دشمن کا مقابلہ قرین مصلحت ہے تو نہ صرف جوش نفس سے بلکہ سچائی کی مدد کے لئے دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں مگر نہ اپنے نفس کا بھروسہ کر کے بلکہ خدا پر بھروسہ کر کے بہادری دکھاتے ہیں اور ان کی شجاعت میں ریا کاری اور خود بینی نہیں ہوتی اور نہ نفس کی پیروی بلکہ ہر ایک پہلو سے خدا کی رضا مقدم ہوتی ہے۔ ان آیات میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ حقیقی شجاعت کی جڑ صبر اور ثابت قدمی ہے اور ہر ایک جذ بہ نفسانی یا بلا جو دشمنوں کی طرح حملہ کرے اس کے مقابلہ پر ثابت قدم رہنا اور بزدل ہو کر بھاگ نہ جانا یہی شجاعت ہے۔ سو انسان اور درندہ کی شجاعت میں بڑا فرق ہے۔ درندہ ایک ہی پہلو پر جوش اور غضب سے کام لیتا ہے اور انسان جو حقیقی شجاعت رکھتا ہے وہ مقابلہ البقرة : ١٧٨ الرعد : ٢٣ ال عمران: ۱۷۴ الانفال: ۴۸