اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 363
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۵۷ اسلامی اصول کی فلاسفی اور پھر فرمایا ہے کہ حقیقی نیکی کرنے والوں کی یہ خصلت ہے کہ وہ محض خدا کی محبت کے لئے وہ کھانے جو آپ پسند کرتے ہیں مسکینوں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تم پر کوئی احسان نہیں کرتے بلکہ یہ کام صرف اس بات کے لئے کرتے ہیں کہ خدا ہم سے راضی ہو اور اس کے منہ کے لئے یہ خدمت ہے۔ ہم تم سے نہ تو کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ چاہتے ہیں کہ تم ہمارا شکر کرتے پھرو۔ یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ایصال خیر کی تیسری قسم جو محض ہمدردی کے جوش سے ہے وہ طریق بجالاتے ہیں۔ بچے نیکوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ خدا کی رضا جوئی کے لئے اپنے قریبیوں کو اپنے مال سے مدد کرتے ہیں اور نیز اس مال میں سے یتیموں کے تعھد اور ان کی پرورش اور تعلیم وغیرہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں اور مسکینوں کو فقر و فاقہ سے بچاتے ہیں اور مسافروں اور سوالیوں کی خدمت کرتے ہیں اور ان مالوں کو غلاموں کو آزاد کرانے کے لئے اور قرض داروں کو سبکدوش کرنے کے لئے بھی دیتے ہیں اور اپنے خرچوں میں نہ تو اسراف کرتے ہیں نہ تنگ دلی کی عادت رکھتے ہیں اور میانہ روش چلتے ہیں۔ پیوند کرنے کی جگہ پر پیوند کرتے ہیں اور خدا سے ڈرتے ہیں اور ان کے مالوں میں سوالیوں اور بے زبانوں کا حق بھی ہے۔ بے زبانوں سے مراد کتے ، بلیاں ، چڑیاں ، بیل، گدھے، بکریاں اور دوسری چیزیں ہیں وہ تکلیفوں اور کم آمدنی کی حالت میں اور قحط کے دنوں میں سخاوت سے دل تنگ نہیں ہو جاتے بلکہ تنگی کی حالت میں بھی اپنے مقدور کے موافق سخاوت کرتے رہتے ہیں۔ وہ کبھی پوشیدہ خیرات کرتے ہیں اور کبھی ظاہر ۔ پوشیدہ اس لئے کہ تاریا کاری سے بچیں اور ظاہر اس لئے کہ تا دوسروں کو ترغیب دیں۔ خیرات اور صدقات وغیرہ پر جو مال دیا جائے اس میں یہ (۳۳) ملحوظ رہنا چاہیے کہ پہلے جس قدر محتاج ہیں ان کو دیا جائے ۔ ہاں جو خیرات کے مال کا تعہد کریں یا اس کے لئے انتظام و اہتمام کریں ان کو خیرات کے مال سے کچھ مال مل سکتا ہے اور نیز کسی کو بدی سے بچانے کے لئے بھی اس مال میں سے دے سکتے ہیں۔