اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 362 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 362

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۵۶ اسلامی اصول کی فلاسفی (٣٣) حَقَّهُ وَ الْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَ بِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَى وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَا لَا فَخُورًا - الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُوْنَ مَا أَتْهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ترجمہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! تم ان مالوں میں سے لوگوں کو بطریق سخاوت یا احسان یا صدقہ وغیرہ دو جو تمہاری پاک کمائی ہے یعنی جس میں چوری یا رشوت یا خیانت یا غین کا مال یا ظلم کے روپیہ کی آمیزش نہیں۔ اور یہ قصد تمہارے دل سے دور رہے کہ ناپاک مال لوگوں کو دو اور دوسری یہ بات ہے کہ اپنی خیرات اور مروت کو احسان رکھنے اور دکھ دینے کے ساتھ باطل مت کرو یعنی اپنے ممنون منت کو بھی یہ نہ جتلاؤ کہ ہم نے تجھے یہ دیا تھا اور نہ اس کو دکھ دو کیونکہ اس طرح تمہارا احسان باطل ہوگا اور نہ ایسا طریق پکڑو کہ تم اپنے مالوں کو ریا کاری کے ساتھ خرچ کرو ۔ خدا کی مخلوق سے احسان کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ جو لوگ حقیقی نیکی کرنے والے ہیں ان کو وہ جام پلائے جائیں گے جن کی ملونی کافور کی ہوگی یعنی دنیا کی سوزشیں اور حسرتیں اور ناپاک خواہشیں ان کے دل سے دور کر دی جائیں گی۔ کافور كَفَرَ سے مشتق ہے اور کفر لغت عرب میں دبانے اور ڈھانکنے کو کہتے ہیں ۔ مطلب یہ کہ ان کے جذبات ناجائز دبائے جائیں گے اور وہ پاک باطن ہو جائیں گے اور معرفت کی خنکی ان کو پہنچے گی۔ پھر فرماتا ہے کہ وہ لوگ قیامت کو اس چشمہ کا پانی پئیں گے جس کو وہ آج اپنے ہاتھ سے چیر رہے ہیں۔ اس جگہ بہشت کی فلاسفی کا ایک گہرا راز بتلایا ہے جس کو سمجھنا ہو سمجھ لے بنی اسرائیل : ۲۷ ۲ النساء : ۳۸۳۷