اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 359 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 359

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۵۳ اسلامی اصول کی فلاسفی دوسر ا خلق اخلاق ایصال خیر میں سے عدل ہے اور تیسرا احسان اور چوتھا ایتاء ذی القربی جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَائِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْى یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ نیکی کے مقابل پر نیکی کرو اور اگر عدل سے بڑھ کر احسان کا موقع اور محل ہو تو وہاں احسان کرو اور اگر احسان سے بڑھ کر قریبیوں کی طرح طبعی جوش سے نیکی کرنے کا محل ہو تو وہاں طبعی ہمدردی سے نیکی کرو اور اس سے خدا تعالیٰ منع فرماتا ہے کہ تم حدود اعتدال سے آگے گزر جاؤ یا احسان کے بارے میں منکرانہ حالت تم سے صادر ہو جس سے عقل انکار کرے یعنی یہ کہ تم بے محل احسان کرو یا برمحل احسان کرنے سے دریغ کرو یا یہ کہ تم محل پر ایتاء ذی القربیٰ کے خلق میں کچھ کمی اختیار کر دیا حد سے زیادہ رحم کی بارش کرو۔ اس آیت کریمہ میں ایصال خیر کے تین درجوں کا بیان ہے۔ اوّل یہ درجہ کہ نیکی کے مقابل پر نیکی کی جائے۔ یہ تو کم درجہ ہے اور ادنی درجہ کا بھلا مانس آدمی بھی یہ خلق حاصل کر سکتا ہے کہ اپنے نیکی کرنے والوں کے ساتھ نیکی کرتار ہے۔ دوسرا درجہ اس سے مشکل ہے اور وہ یہ کہ ابتداء آپ ہی نیکی کرنا اور بغیر کسی کے حق کے احسان کے طور پر اس کو فائدہ پہنچانا اور یہ خلق اوسط درجہ کا ہے۔ اکثر لوگ غریبوں پر احسان کرتے ہیں اور احسان میں یہ ایک مخفی عیب ہے کہ احسان کرنے والا خیال کرتا ہے کہ میں نے احسان کیا ہے اور کم سے کم وہ اپنے احسان کے عوض میں شکر یہ یا دعا چاہتا ہے اور اگر کوئی ممنون منت اس کا مخالف ہو جائے تو اس کا نام احسان فراموش رکھتا ہے۔ بعض وقت اپنے احسان کی وجہ سے اس پر فوق الطاقت بوجھ ڈال دیتا ہے اور اپنا احسان اس کو یاد دلاتا ہے جیسا کہ احسان کرنے والوں کو خدا تعالیٰ متنبہ کرنے کے لئے فرماتا ہے۔ لا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُمْ بِالمَن وَالأذى ! النحل: ۹۱ البقرة : ۲۶۵