اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 360
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۵۴ اسلامی اصول کی فلاسفی یعنی اے احسان کرنے والو! اپنے صدقات کو جن کی صدق پر بنا چاہیے۔ احسان یاد دلانے اور دکھ دینے کے ساتھ برباد مت کرو۔ یعنی صدقہ کا لفظ صدق سے مشتق ہے۔ پس اگر دل میں صدق اور اخلاص نہ رہے تو وہ صدقہ صدقہ نہیں رہتا بلکہ ایک ریا کاری کی حرکت ہو جاتی ہے۔ غرض احسان کرنے والے میں یہ ایک خامی ہوتی ہے کہ کبھی غصہ میں آ کر اپنا احسان بھی یاد ولا دیتا ہے اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے احسان کرنے والوں کو ڈرایا۔ تیسرا درجہ ایصال خیر کا خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ بالکل احسان کا خیال نہ ہو اور نہ شکر گذاری پر نظر ہو بلکہ ایک ایسی ہمدردی کے جوش سے نیکی صادر ہو جیسا کہ ایک نہایت قریبی مثلاً والد و محض ہمدردی کے جوش سے اپنے بیٹے سے نیکی کرتی ہے۔ یہ وہ آخری درجہ ایصال خیر کا ہے جس سے آگے ترقی کرنا ممکن نہیں لیکن خدا تعالیٰ نے ان تمام ایصال خیر کی قسموں کو حل اور موقع سے وابستہ کر دیا ہے اور آیت موصوفہ میں صاف فرما دیا ہے کہ اگر یہ نیکیاں اپنے اپنے محل پر مستعمل نہیں ہوں گی تو پھر یہ بدیاں ہو جائیں گی ۔ بجائے عدل فحشاء بن جائے گا یعنی حد سے اتنا تجاوز کرنا کہ نا پاک صورت ہو جائے ۔ اور ایسا ہی بجائے احسان کے منکر کی صورت نکل آئے گی یعنی وہ صورت جس سے عقل اور کانشنس انکار کرتا ہے اور بجائے ایتاء ذی القربی کے بغی بن جائے گا یعنی وہ بے محل ہمدردی کا جوش ایک بری صورت پیدا کرے گا ۔ اصل میں بنی اس بارش کو کہتے ہیں جو حد سے زیادہ برس جائے اور کھیتوں کو تباہ کر دے اور حق واجب میں کمی رکھنے کو بغی کہتے ہیں اور یاحق واجب سے افزونی کرنا بھی بغی ہے غرض ان متینوں میں سے جو حل پر صادر نہیں ہو گا وہی خراب سیرت ہو جائے گی۔ اسی لئے ان تینوں کے ساتھ موقع اور محل کی شرط لگا دی ہے۔ اس جگہ یادر ہے کہ مجرد عدل یا احسان یا ہمدردی ذی القربی کو خلق نہیں کہہ سکتے بلکہ انسان میں یہ سب طبعی حالتیں اور طبعی قو تیں ہیں کہ جو بچوں میں بھی وجود معقل سے پہلے پائی جاتی ہیں مگر خلق کے لئے عقل شرط ہے اور نیز یہ شرط ہے کہ ہر ایک طبعی قوت محل اور موقع پر استعمال ہو۔ اور پھر احسان کے بارے میں اور بھی ضروری ہدایتیں قرآن شریف میں ہیں اور سب