اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 358
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۵۲ اسلامی اصول کی فلاسفی آیا بھٹے میں یا سزا دینے میں ۔ پس جو ا مر حل اور موقع کے مناسب ہو وہی کرو۔ افراد انسانی کے دیکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ جیسے بعض لوگ کینہ کشی پر بہت حریص ہوتے ہیں یہاں تک کہ دادوں پر دادوں کے کینوں کو یا درکھتے ہیں۔ ایسا ہی بعض لوگ عفو اور درگذر کی عادت کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں اور بسا اوقات اس عادت کے افراط سے دیوٹی تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور ایسے قابل شرم حلم اور عفو اور درگذران سے صادر ہوتے ہیں جو سراسر حمیت اور غیرت اور عفت کے بر خلاف ہوتے ہیں بلکہ نیک چلنی پر داغ لگاتے ہیں اور ایسے عفو اور درگذر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سب لوگ تو بہ توبہ کر اٹھتے ہیں۔ انہیں خرابیوں کے لحاظ سے قرآن شریف میں ہر ایک خلق کے لئے محل اور موقع کی شرط لگا دی ہے اور ایسے خلق کو منظور نہیں رکھا جو بے محل صادر ہو۔ یادر ہے کہ مجرد عفو کو خلق نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ ایک طبعی قوت ہے جو بچوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ بچہ کو جس کے ہاتھ سے چوٹ لگ جائے خواہ شرارت سے ہی لگے تھوڑی دیر کے بعد وہ اس قصہ کو بھلا دیتا ہے اور پھر اس کے پاس محبت سے جاتا ہے اور اگر ایسے شخص نے اس کے قتل کا بھی ارادہ کیا ہو تب بھی صرف میٹھی بات پر خوش ہو جاتا ہے۔ پس ایسا عفو کسی طرح خلق میں داخل نہیں ہوگا۔ خلق میں اس صورت میں داخل ہوگا جب ہم اس کو محل اور موقع پر استعمال کریں گے ورنہ صرف ایک طبعی قوت ہو گی۔ دنیا میں بہت تھوڑے ایسے لوگ ہیں جو طبعی قوت اور خلق میں فرق کر سکتے ہیں۔ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ حقیقی خلق اور طبعی حالتوں میں یہ فرق ہے کہ خلق ہمیشہ محل اور موقع کی پابندی اپنے ساتھ رکھتا ہے اور طبعی قوت بے محل ظاہر ہو جاتی ہے۔ یوں تو چارپایوں میں گائے بھی بے شر ہے اور بکری بھی دل کی غریب ہے مگر ہم ان کو اسی سبب سے ان خلقوں سے متصف نہیں کہہ سکتے کہ ان کو محل اور موقع کی عقل نہیں دی گئی ۔ خدا کی حکیم اور خدا کی سچی اور کامل کتاب نے ہر ایک خلق کے ساتھ محل اور موقع کی شرط لگادی ہے۔