اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 335 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 335

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۲۹ اسلامی اصول کی فلاسفی واسطے اللہ تعالیٰ کو کہنا پڑا حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهُتُكُم با پ ۱۵ یعنی آج مائیں تمہاری تم پر حرام ہو گئیں۔ ایساہی وہ مردار کھاتے تھے۔ آدم خور بھی تھے۔ دنیا کا کوئی بھی گناہ نہیں جو نہیں کرتے تھے۔ اکثر معاد کے منکر تھے ۔ بہت سے ان میں سے خدا کے وجود کے بھی قائل نہ تھے۔ لڑکیوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کرتے تھے۔ تیموں کو ہلاک کر کے ان کا مال کھاتے تھے۔ بظاہر تو انسان تھے مگر عقلیں مسلوب تھیں ۔ نہ حیا تھی نہ شرم تھی نہ غیرت تھی۔ شراب کو پانی کی طرح پیتے تھے۔ جس کا زنا کاری میں اول نمبر ہوتا تھا وہی قوم کا رئیس کہلاتا تھا۔ (۱۳) بے علمی اس قدر تھی کہ ارد گرد کی تمام قوموں نے ان کا نام اُمی رکھ دیا تھا۔ ایسے وقت میں اور ایسی قوموں کی اصلاح کے لئے ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہر مکہ میں ظہور فرما ہوئے۔ پس وہ تین قسم کی اصلاحیں جن کا ہم ابھی ذکر کر چکے ہیں۔ ان کا در حقیقت یہی زمانہ تھا۔ پس اسی وجہ سے قرآن شریف دنیا کی تمام ہدایتوں کی نسبت اکمل اور اتم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کیونکہ دنیا کی اور کتابوں کو ان تین قسم کی اصلاحوں کا موقعہ نہیں ملا اور قرآن شریف کو ملا اور قرآن شریف کا یہ مقصد تھا کہ حیوانوں سے انسان بناوے اور انسان سے با اخلاق انسان بناوے اور با اخلاق انسان سے باخدا انسان بناوے۔اسی واسطے ان تین امور پر قرآن شریف مشتمل ہے۔ قرآنی تعلیم کا اصل منشاء اصلاحات ثلاثہ ہیں اور قبل اس کے جو ہم اصلاحات ثلاثہ کا مفصل بیان کریں یہ ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ قرآن شریف میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جوز بر دستی مانی پڑے بلکہ تمام قرآن کا مقصد صرف اصلاحات ثلاثہ ہیں اور اس کی تمام تعلیموں کا لب لباب یہی تین اصلاحیں ہیں۔ اور باقی تمام احکام ان اصلاحوں کے لئے بطور وسائل کے ہیں اور جس طرح بعض وقت ڈاکٹر کو بھی صحت کے پیدا کرنے کے لئے کبھی النساء : ۲۴