اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 332
۳۲۶ روحانی خزائن جلد ۱۰ اسلامی اصول کی فلاسفی رنگ پکڑ لیتی ہیں ۔ ایسا ہی اخلاقی حالتیں روحانی حالتوں سے کوئی الگ باتیں نہیں ہیں بلکہ وہی اخلاقی حالتیں ہیں جو پورے فنا فی اللہ اور تزکیہ نفس اور پورے انقطاع الی اللہ اور پوری محبت اور پوری محویت اور پوری سکینت اور اطمینان اور پوری موافقت باللہ سے روحانیت کا رنگ پکڑ لیتی ہیں۔ طبعی حالتیں جب تک اخلاقی رنگ میں نہ آئیں کسی طرح انسان کو قابل تعریف نہیں بنا تیں کیونکہ وہ دوسرے حیوانات بلکہ جمادات میں بھی پائی جاتی ہیں۔ ایسا ہی مجرد اخلاق کا حاصل کرنا بھی انسان کو روحانی زندگی نہیں بخشتا بلکہ ایک شخص خدا تعالیٰ کے وجود سے بھی منکر رہ کر اچھے اخلاق دکھلا سکتا ہے۔ دل کا غریب ہونا یا دل کا حلیم ہونا یا صلح کار ہونا یا ترک شر کرنا اور شریر کے مقابلہ پر نہ آنا یہ تمام طبعی حالتیں ہیں اور ایسی باتیں ہیں جو ایک نا اہل کو بھی حاصل ہو سکتی ہیں جو اصل سرچشمہ نجات سے بے نصیب اور نا آشنا محض ہے اور بہت سے چار پائے غریب بھی ہوتے ہیں اور ملنے اور خو پذیر ہونے سے صلح کاری بھی دکھلاتے ہیں۔ سوٹے پر سوٹا مارنے سے کوئی مقابلہ نہیں کرتے مگر پھر بھی ان کو انسان نہیں کہہ سکتے چہ جائیکہ ان خصلتوں سے وہ اعلیٰ درجہ کے انسان بن سکیں ۔ ایسا ہی بد سے بدعقیدہ والا بلکہ بعض بدکاریوں کا مرتکب ان باتوں کا پابند ہوسکتا ہے۔ جیو ہتیا کا لطیف ردّ ممکن ہے کہ انسان رحم میں اس حد تک پہنچ جائے کہ اگر اس کے اپنے ہی زخم میں کیڑے پڑیں ان کو بھی قتل کرنا روا نہ رکھے اور جانداروں کی پاسداری اس قدر کرے کہ جوئیں جو سر میں پڑتی ہیں یا وہ کیڑے جو پیٹ اور انتڑیوں میں اور دماغ میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کو بھی آزار دینا نہ چاہے بلکہ میں قبول کر سکتا ہوں کہ کسی کا رحم اس حد تک پہنچے کہ وہ شہد کھانا ترک کر دے کیونکہ وہ بہت سی جانوں کے تلف ہونے اور غریب مکھیوں کو ان کے استھان سے پراگندہ کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے اور میں مانتا ہوں کہ کوئی مشک سے بھی پر ہیز کرے کیونکہ وہ غریب ہرن کا خون ہے اور اس غریب کو قتل کرنے اور بچوں سے جدا کرنے کے بعد میسر آ سکتا ہے۔ ایسا ہی مجھے اس سے بھی انکار نہیں کہ کوئی موتیوں کے استعمال کو بھی چھوڑ دے اور ابریشم کو پہننا بھی ترک کرے کیونکہ یہ دونوں غریب کیڑوں کے ہلاک کرنے سے ملتے ہیں بلکہ میں یہاں