اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 331
۳۲۵ روحانی خزائن جلد ۱۰ اسلامی اصول کی فلاسفہ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ ! وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمَ فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهِ ۲ قُل إن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُخبكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ b وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمُ ترجمہ۔ یعنی نجات یافتہ وہ شخص ہے جو اپنے وجود کو خدا کیلئے اور خدا کی راہ میں قربانی کی طرح رکھ دے اور نہ صرف نیت سے بلکہ نیک کاموں سے اپنے صدق کو دکھلا دے۔ جو شخص ایسا کرے اس کا بدلہ خدا کے نزدیک مقرر ہو چکا اور ایسے لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ کہہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا اس خدا کے لئے ہے جس کی ربوبیت تمام چیزوں پر محیط ہے کوئی چیز اور کوئی شخص اس کا شریک نہیں اور مخلوق کو کسی قسم کی شراکت اس کے ساتھ نہیں۔ مجھے یہی حکم ہے کہ میں ایسا کروں اور اسلام کے مفہوم پر قائم ہونے والا یعنی خدا کی راہ میں اپنے وجود کی قربانی دینے والا سب سے اول میں ہوں۔ یہ میری راہ ہے سو آؤ میری راہ اختیار کرو اور اس کے مخالف کوئی راہ اختیار نہ کرو کہ خدا سے دور جا پڑو گے۔ ان کو کہہ دے کہ اگر خدا سے پیار کرتے ہو تو آؤ میرے پیچھے ہو لو اور میری راہ پر چلو تا خدا بھی تم سے پیار کرے اور تمہارے گناہ بخشے اور وہ تو بخشندہ اور رحیم ہے۔ طبعی حالتوں اور اخلاق میں مابہ الامتیاز اب ہم انسان کے ان تین مرحلوں کا جدا جدا بیان کریں گے لیکن اوّل یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ طبعی حالتیں جن کا سر چشمہ اور مبداء نفس امارہ ہے خدا تعالیٰ کے پاک کلام کے اشارات کے موافق اخلاقی حالتوں سے کوئی الگ چیز نہیں ہے کیونکہ خدا کے پاک کلام نے تمام نیچرل قومی اور جسمانی خواہشوں اور تقاضوں کو طبعی حالات کی مد میں رکھا ہے اور وہی طبعی حالتیں ہیں جو بالا رادہ ترتیب اور تعدیل اور موقع بینی اور محل پر استعمال کرنے کے بعد اخلاق کا الانعام : ۱۶۳ ۱۶۴ الانعام : ۱۵۴ آل عمران: ۳۲