اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 327
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۲۲ ج اسلامی اصول کی فلاسفی عمر کا زمانہ بھی شروع ہو جاتا ہے وہ خون شر انگیز اب کہاں پیدا ہوتا ہے جو پہلے پیدا ہوتا تھا وہ اعضاء کی طاقت اور جوانی کی مستانہ نشاط کہاں باقی رہتی ہے جو پہلے تھی ۔ اب تو تنزل اور گھاٹے کا زمانہ آتا جاتا ہے اور اس پر متواتر ان بزرگوں کی موتیں دیکھنی پڑتی ہیں جو اپنی عمر سے بہت زیادہ تھے بلکہ بعض وقت قضا و قدر سے چھوٹوں کی موتیں بھی کمروں کو توڑتی ہیں اور غالباً اس زمانہ میں والدین بھی قبروں میں جا لیتے ہیں اور دنیا کی نا پائیداری کے بہت سے نمونے ظاہر ہو جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ اس کے سامنے ایک آئینہ رکھ دیتا ہے کہ دیکھ دنیا کی یہ ہیئت ہے اور جس کے لئے تو مرتا ہے اس کا انجام یہ ہے ۔ تب اپنی گذشتہ غلطیوں کو حسرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ایک بھاری انقلاب اس پر آتا ہے اور ایک نئی دنیا شروع ہوتی ہے بشرطیکہ خمیر میں سعادت رکھتا ہو اور ان میں سے ہو جو بلائے گئے ہیں ۔ اسی بارے میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ اِحْسَنًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِضْلَهُ ثَلْثُونَ شَهْرًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضُهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ یعنی ہم نے انسان کو یہ وصیت کی ہے کہ تو اپنے والدین سے نیکی کر ۔ دیکھ تیری ماں نے تیرے لئے کیا تکلیفیں اٹھا ئیں ۔ وہ تیرے پیٹ سے ایک مدت دراز تک دکھ میں رہی اور دکھوں اور تکلیفوں سے تجھے جنا ۔ تیرے دودھ پلانے اور حمل میں رہنے سے تمہیں مہینے تک اس نے مصیبتیں اٹھا ئیں ۔ پھر فرماتا ہے کہ جب نیک انسان چالیس برس الاحقاف : ١٦