اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 320
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۱۸ اسلامی اصول کی فلاسفی اور طبعی خواہشیں عقل کے مشورہ سے ظہور پذیر ہوں۔ پس چونکہ وہ بری حرکت پر ملامت کرتا ہے اس لئے اس کا نام نفس لوامہ ہے یعنی بہت ملامت کرنے والا اور نفس لوامہ اگر چہ طبعی جذبات پسند نہیں کرتا بلکہ اپنے تئیں ملامت کرتا رہتا ہے لیکن نیکیوں کے بجالانے پر پورے طور سے قادر بھی نہیں ہو سکتا اور کبھی نہ بھی طبعی جذبات اس پر غلبہ کر جاتے ہیں ۔ تب گر جاتا ہے اور ٹھوکر کھاتا ہے۔ گویا وہ ایک کمزور بچہ کی طرح ہوتا ہے جو گر نا نہیں چاہتا ہے مگر کمزوری کی وجہ سے گرتا ہے پھر اپنی کمزوری پر نادم ہوتا ہے۔ غرض یہ نفس کی وہ اخلاقی حالت ہے۔ جب نفس اخلاق فاضلہ کو اپنے اندر جمع کرتا ہے اور سرکشی سے بیزار ہوتا ہے مگر پورے طور پر غالب نہیں آ سکتا۔ (۳) نفس مطمئنه پھر ایک تیسرا سر چشمہ ہے جس کو روحانی حالتوں کا مبدء کہنا چاہیے۔ اس سر چشمہ کا نام قرآن شریف نے نفس مطمئنہ رکھا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً قَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ! یعنی اے نفس آرام یافتہ جو خدا سے آرام پا گیا اپنے خدا کی طرف واپس چلا آ ۔ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ۔ پس میرے بندوں میں مل جا اور میرے بہشت کے اندر آجا۔ یہ وہ مرتبہ ہے جس میں نفس تمام کمزوریوں سے نجات پاکر روحانی قوتوں سے بھر جاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے ایسا پیوند کر لیتا ہے کہ بغیر اس کے جی بھی نہیں سکتا اور جس طرح پانی اوپر سے نیچے کی طرف بہتا اور بسبب اپنی کثرت کے اور نیز روکوں کے دور ہونے سے بڑے زور سے چلتا ہے اسی طرح وہ خدا کی طرف بہتا چلا جاتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اے وہ نفس جو خدا سے آرام پا گیا اس کی طرف واپس چلا آ ۔ پس وہ اسی زندگی میں نہ موت کے بعد ایک عظیم الشان تبدیلی پیدا کرتا ہے اور اسی دنیا میں نہ دوسری جگہ ایک بہشت اس کو ملتا ہے اور جیسا کہ اس آیت میں لکھا ہے کہ اپنے رب کی طرف یعنی پرورش کرنے الفجر: ۲۸ تا ۳۱