اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 319
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۱۷ اسلامی اصول کی فلاسفی کی اخلاقی حالتوں کے برعکس ہے جھکاتا ہے اور نا پسندیدہ اور بد راہوں پر چلانا چاہتا ہے۔ غرض بے اعتدالیوں اور بدیوں کی طرف جانا انسان کی ایک حالت ہے جو اخلاقی حالت سے پہلے اس پر طبعاً غالب ہوتی ہے اور یہ حالت اس وقت تک طبعی حالت کہلاتی ہے جب تک کہ انسان عقل اور معرفت کے زیر سایہ نہیں چلتا بلکہ چارپایوں کی طرح کھانے پینے ،سونے جاگنے یا غصہ اور جوش دکھلانے وغیرہ امور میں طبعی جذبات کا پیرو ر ہتا ہے۔ اور جب انسان عقل اور معرفت کے مشورہ سے طبعی حالتوں میں تصرف کرتا اور اعتدال مطلوب کی رعایت رکھتا ہے اس وقت ان تینوں حالتوں کا نام طبعی حالتیں نہیں رہتا بلکہ اس وقت یہ حالتیں اخلاقی حالتیں کہلاتی ہیں جیسا کہ آگے بھی کچھ ذکر اس کا آئے گا۔ (۲) نفس لوامہ اور اخلاقی حالتوں کے دوسرے سر چشمہ کا نام قرآن شریف میں نفس لوامہ ہے جیسا کہ قرآن شریف فرماتا ہے۔ وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ النَّوَّامَةِ یعنی میں اس نفس کی قسم کھاتا ہوں جو بدی کے کام اور ہر ایک بے اعتدالی پر اپنے تئیں ملامت کرتا ہے۔ یہ نفس لوامہ انسانی حالتوں کا دوسرا سر چشمہ ہے ۔ جس سے اخلاقی حالتیں پیدا ہوتی ہیں اور اس مرتبہ پر انسان دوسرے حیوانات کی مشابہت سے نجات پا تا ہے ۔ اور اس جگہ نفس لوامہ کی قسم کھا نا اس کو عزت دینے کے لئے ہے گویا وہ نفس امارہ سے نفس لوامہ بن کر بوجہ اس ترقی کے جناب الہی میں عزت پانے کے لائق ہو گیا۔ اور اس کا نام لوامہ اس لئے رکھا کہ وہ انسان کو بدی پر ملامت کرتا ہے اور اس بات پر راضی نہیں ہوتا کہ انسان اپنے طبعی لوازم میں شتر بے مہار کی طرح چلے اور چارپایوں کی زندگی بسر کرے بلکہ یہ چاہتا ہے کہ اس سے اچھی حالتیں اور اچھے اخلاق صادر ہوں اور انسانی زندگی کے تمام لوازم میں کوئی بے اعتدالی ظہور میں نہ آوے اور طبعی جذبات القيمة : ٣