اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 232
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۳۲ لیکچر سیالکوٹ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دو تین بالشت کی جگہ میں مثلاً چیونٹمیں اتنی ہوتی ہیں کہ کئی ارب سے زائد ہو جاتی ہیں اور ہر ایک قطرہ پانی میں کئی ہزار کیڑا ہوتا ہے اور دریا اور سمندر اور جنگل طرح طرح کے حیوانات اور کیڑوں سے بھرے ہوئے ہیں جن کی طرف ہم انسانی تعداد کو کچھ بھی نسبت نہیں دے سکتے ۔ اس صورت میں خیال آتا ہے کہ اگر بفرض محال تناسخ صحیح ہے تو اب تک پر میشر نے بنایا کیا ؟ اور کس کو مکتی دی اور آئندہ کیا امید رکھی جائے؟ ماسوا اس کے یہ قانون بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ سزا تو دی جائے مگر سزا یافتہ شخص کو جرم پر اطلاع نہ دی جائے۔ اور پھر ایک نہایت مصیبت کی جگہ یہ ہے کہ مکتی تو گیان پر موقوف ہے اور گیان ساتھ ساتھ برباد ہوتا رہتا ہے اور کوئی کسی جون میں آنے والا خواہ کیسا ہی پنڈت کیوں نہ ہو کوئی حصہ وید کا یا نہیں رکھتا ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ جونوں کے ذریعہ سے مکتی پانا ہی محال ہے اور جو جونوں کے چکر میں پڑ کر مرد اور عورتیں دنیا میں آئی ہیں ان کے ساتھ (۳۹) کوئی ایسی فہرست نہیں آتی جس سے اُن کے رشتوں کا حال معلوم ہو ، تا کوئی بے چارہ کسی ایسی نوزاد کو اپنی شادی میں نہ لائے جو دراصل اس کی ہمشیرہ یاماں ہے۔ اور نیوگ کا مسئلہ جو آج کل آریہ صاحبوں میں رائج ہے اس کی نسبت تو ہم بار بار یہی نصیحت کرتے ہیں کہ اس کو جہاں تک ممکن ہو ترک کر دینا چاہیے۔ انسانی سرشت ہرگز قبول نہ کرے گی کہ ایک شخص اپنی عزت دار عورت کو جس پر اُس کے تمام ننگ و ناموس کا مدار ہے باوجود اپنے جائز خاوند ہونے کے اور باوجود اس علاقہ کے قائم ہونے کے جو زن و شوہر میں ہوتا ہے پھر اپنی پاک دامن بیوی کو اولاد کی خواہش سے دوسروں سے ہم بستر کرا وے۔ اس بارہ میں ہم زیادہ لکھنا نہیں چاہتے صرف شریف انسانوں کے کانشنس پر چھوڑتے ہیں۔ با ایں ہمہ آریہ صاحبان اس کوشش میں ہیں کہ مسلمانوں کو اپنے اس مذہب کی دعوت کریں۔ سو ہم کہتے ہیں کہ ہر ایک عقلمند سچائی کے قبول