اسلام (لیکچر سیالکوٹ)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 597

اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 231

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۳۱ لیکچر سیالکوٹ دفعہ کیا کہ ہر ایک شخص جس کو مکتی خانہ میں داخل کیا ایک گناہ اس کے ذمہ رکھ لیا۔ اُسی گناہ کی سزا میں آخر کار ہر ایک روح مکتی خانہ سے نکالی جاتی ہے۔ یہ ہیں اصول آریہ صاحبوں کے۔ اب انصاف کرنا چاہیے کہ جو شخص ان (۳۷) مجبوریوں میں پھنسا ہوا ہے اس کو پر میشر کیونکر کہہ سکتے ہیں۔ بڑا افسوس ہے کہ آریہ صاحبوں نے ایک صاف مسئلہ خالقیت باری تعالیٰ سے انکار کر کے اپنے تئیں بڑی مشکلات میں ڈال لیا اور پر میشر کے کاموں کو اپنے نفس کے کاموں پر قیاس کر کے اس کی تو ہین بھی کی اور یہ نہ سوچا کہ خدا ہر ایک صفت میں مخلوق سے الگ ہے اور مخلوق کے پیمانہ صفات سے خدا کو نا پنا یہ ایک ایسی غلطی ہے جس کو اہل مناظرہ قیاس مع الفارق کہتے ہیں اور یہ کہنا کہ نیستی سے ہستی نہیں ہو سکتی یہ تو مخلوق کے کاموں کی نسبت عقل کا ایک ناقص تجربہ ہے۔ پس اسی قاعدہ کے نیچے خدا کی صفات کو بھی داخل کرنا اگر نا سمجھی نہیں تو اور کیا ہے ۔ خدا بغیر جسمانی زبان کے بولتا ہے اور بغیر جسمانی کانوں کے سنتا ہے اور بغیر جسمانی آنکھوں کے دیکھتا ہے۔ اسی طرح وہ بغیر جسمانی لوازم کے پیدا بھی کرتا ہے۔ اس کو مادہ کے لئے مجبور کرنا گویا خدائی صفات سے معطل کرنا ہے اور پھر اس عقیدہ میں ایک اور بھاری فساد ہے کہ یہ عقیدہ انادی ہونے کی صفت میں ذرہ ذرہ کو خدا تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے اور بت پرست تو چند بتوں کو بھی خدا کے شریک قرار دیتے تھے مگر اس عقیدہ کے رو سے تمام دنیا ہی خدا کی شریک ہے کیونکہ ہر ایک ذرہ اپنے وجود کا آپ ہی خدا ہے۔ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں یہ باتیں کسی بغض اور عداوت سے نہیں کہتا بلکہ میں یقین رکھتا ہوں کہ وید کی اصلی تعلیم یہ ہرگز نہیں ہوگی ۔ مجھے معلوم ہے کہ خودرو فلسفیوں کے ایسے عقیدے تھے جن میں سے بہت سے لوگ آخر کار دہر یہ ہو گئے اور مجھے خوف ۳۸ ہے کہ اگر آریہ صاحبوں نے اس عقیدہ سے دست کشی نہ کی تو ان کا انجام بھی یہی ہو گا اور اس عقیدہ کی شاخ جو تناسخ ہے وہ بھی خدا کے رحم اور فضل پر سخت دھبہ لگاتی ہے کیونکہ