اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 226
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۲۶ لیکچر سیالکوٹ یہ کہا کرتے ہیں کہ ہمیں بھی سچی خوا میں آ جاتی ہیں۔ کبھی دعا بھی قبول ہو جاتی ہے۔ کبھی الہام بھی ہو جاتا ہے۔ پس ہم میں اور رسولوں میں کیا فرق ہے؟ پس اُن کے نزدیک خدا کے نبی مکار یا دھوکا خوردہ ہیں۔ جو ایک معمولی بات پر فخر کر رہے ہیں اور اُن میں اور اُن کے غیر میں کچھ بھی فرق نہیں۔ یہ ایک ایسا مغرورانہ خیال ہے جس سے اس زمانہ میں بہت سے لوگ ہلاک ہو رہے ہیں لیکن طالب حق کے لئے ان اوہام کا صاف جواب ہے اور وہ یہ کہ بلاشبہ یہ بات سچ ہے کہ خدا نے ایک گروہ کو اپنے خاص فضل اور عنایت کے ساتھ برگزیدہ کر کے اپنی روحانی نعمتوں کا بہت سا حصہ اُن کو دیا ہے اس لئے باوجود اس کے کہ ایسے معاند اور اندھے ہمیشہ انبیاء علیہم السلام سے منکر رہے ہیں تا ہم خدا کے نبی اُن پر غالب آتے رہے ہیں اور اُن کا خارق عادت نور ہمیشہ ایسے طور سے ظاہر ہوتا رہا ہے کہ آخر عقلمندوں کو ماننا پڑا ہے کہ اُن میں اور اُن کے غیروں میں ایک عظیم الشان امتیاز ہے جیسا کہ ظاہر ہے کہ ایک مفلس گدائی پیشہ کے پاس بھی چند درہم ہوتے ہیں اور ایک شہنشاہ کے خزائن بھی دراہم سے پُر ہوتے ہیں مگر وہ مفلس نہیں کہہ سکتا کہ میں اس بادشاہ کے برابر ہوں ۔ یا مثلاً ایک کیڑے میں روشنی ہوتی ہے جو رات کو چمکتا ہے اور آفتاب میں بھی روشنی ہے مگر کیٹر ا نہیں کہہ سکتا کہ میں آفتاب کے برابر ہوں اور خدا نے جو عام لوگوں کے نفوس میں رؤیا اور کشف اور الہام کی کچھ کچھ تخم ریزی کی ہے وہ محض اس لئے ہے کہ وہ لوگ اپنے ذاتی تجربہ سے انبیاء علیہم السلام کو شناخت کر سکیں اور اس راہ سے بھی اُن پر حجت پوری ہو اور کوئی عذر باقی نہ رہے۔ اور پھر ایک خصوصیت خدا کے برگزیدہ بندوں میں یہ ہے کہ وہ اہلِ تا شیر اور اہل جذب ہوتے ہیں اور وہ دنیا میں روحانی نسلوں کے قائم کرنے کے لئے بھیجے جاتے ہیں اور چونکہ وہ علی وجہ البصیرت رہنمائی کرتے ہیں اور مخلوق کے ظلماتی پردوں کو درمیان سے اُٹھاتے ہیں اس لئے کچی معرفت الہی اور کچی محبت الہی اورسچا زہد وتقویٰ اور ذوق اور حلاوت