اسلام (لیکچر سیالکوٹ)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 597

اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 225

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۲۵ لیکچر سیالکوٹ انسان کو پیدا کیا ہے یہ سنت جاری کی ہے کہ وہ پہلے اپنے فضل عظیم سے جس کو چاہتا ہے اُس پر روح القدس ڈالتا ہے اور پھر روح القدس کی مدد سے اس کے اندر اپنی محبت پیدا کرتا ہے اور صدق و ثبات بخشتا ہے اور بہت سے نشانوں سے اس کی معرفت کو قوی کر دیتا ہے اور اس کی کمزوریوں کو دور کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ سچ سچ اس کی راہ میں جان دینے کو طیار ہوتا ہے اور اس کا اُس ذات قدیم سے کچھ ایسا غیر منفک تعلق ہو جاتا ہے کہ وہ تعلق کسی مصیبت سے دور نہیں ہوسکتا اور کوئی تلوار اس علاقہ کو قطع نہیں کر سکتی اور اس محبت کا کوئی عارضی سہارا نہیں ہوتا ۔ نہ بہشت کی خواہش نہ دوزخ کا خوف۔ نہ دنیا کا آرام اور نہ کوئی مال و دولت بلکہ ایک لا معلوم تعلق ہے جس کو خدا ہی جانتا ہے اور عجب تریہ کہ یہ گرفتار محبت بھی اس تعلق کی کنہ کو نہیں پہنچ سکتا کہ کیوں ہے اور کس خواہش اور کس طرح سے ہے کیونکہ وہ ازل سے تعلق ہوتا ہے۔ وہ تعلق معرفت کے ذریعہ سے نہیں بلکہ معرفت بعد میں آتی ہے جو اس تعلق کو روشن کر (۳۰ دیتی ہے۔ جیسا کہ پتھر میں آگ تو پہلے سے ہے لیکن چقماق سے آگ کے شعلے نکلنے شروع ہو جاتے ہیں اور ایسے شخص میں ایک طرف تو خدا تعالی کی ذاتی محبت ہوتی ہے اور دوسری طرف بنی نوع کی ہمدردی اور اصلاح کا بھی ایک عشق ہوتا ہے اسی وجہ سے ایک طرف تو خدا کے ساتھ اس کا ایسا ربط ہوتا ہے جو اس کی طرف ہر وقت کھینچا چلا جاتا ہے اور دوسری طرف نوع انسان کے ساتھ بھی اس کو ایسا تعلق ہوتا ہے جو اُن کی مستعد طبائع کو اپنی طرف کھینچتا ہے جیسا کہ آفتاب زمین کے تمام طبقات کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے اور خود بھی ایک طرف کھینچا جارہا ہے۔ یہی حالت اس شخص کی ہوتی ہے ایسے لوگوں کو اصطلاح اسلام میں نبی اور رسول اور محدث کہتے ہیں اور وہ خدا کے پاک مکالمات اور مخاطبات سے مشرف ہوتے ہیں اور خوارق اُن کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں اور اکثر دعائیں اُن کی قبول ہوتی ہیں اور اپنی دعاؤں میں خدا تعالیٰ سے بکثرت جواب پاتے ہیں۔ بعض جاہل اس جگہ