اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 222
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۲۲ لیکچر سیالکوٹ ہاں یہ سچ ہے کہ معرفت حاصل نہیں ہو سکتی جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو اور نہ مفید ہو سکتی ہے جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو اور فضل کے ذریعہ سے معرفت آتی ہے۔ تب ۲۲) معرفت کے ذریعہ سے حق بینی اور حق جوئی کا ایک دروازہ کھلتا ہے اور پھر بار بار دور فضل سے ہی وہ دروازہ کھلا رہتا ہے اور بند نہیں ہوتا ۔ غرض معرفت فضل کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے اور پھر فضل کے ذریعہ سے ہی باقی رہتی ہے ۔ فضل معرفت کو نہایت مصفی اور روشن کر دیتا ہے اور حجابوں کو درمیان سے اُٹھا دیتا ہے اور نفس امارہ کے لئے گردو غبار کو دور کر دیتا ہے اور روح کو قوت اور زندگی بخشتا ہے اور نفس امارہ کو امارگی کے زندان سے نکالتا ہے اور بدخواہشوں کی پلیدی سے پاک کرتا ہے اور نفسانی جذبات کے تند سیلاب سے باہر لاتا ہے تب انسان میں ایک تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ بھی گندی زندگی سے طبعاً بیزار ہو جاتا ہے کہ بعد اس کے پہلی حرکت جو فضل کے ذریعہ سے روح میں پیدا ہوتی ہے وہ دعا ہے۔ یہ خیال مت کرو کہ ہم بھی ہر روز دعا کرتے ہیں اور تمام نماز دعا ہی ہے جو ہم پڑھتے ہیں کیونکہ وہ دعا جو معرفت کے بعد اور فضل کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے وہ اور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے ۔ وہ فنا کرنے والی چیز ہے۔ وہ گداز کرنے والی آگ ہے وہ رحمت کو کھینچنے والی ایک مقناطیسی کشش ہے ۔ وہ موت ہے پر آخر کو زندہ کرتی ہے۔ وہ ایک تندرسیل ہے پر آخر کوکشتی بن جاتی ہے ۔ ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے اور ہر ایک زہر آخر اس سے تریاق ہو جاتا ہے ۔ مبارک وہ قیدی جو دعا کرتے ہیں ۔ تھکتے نہیں کیونکہ ایک دن رہائی پائیں گے ۔ مبارک وہ اندھے جو دعاؤں میں سُست نہیں ہوتے کیونکہ ایک دن دیکھنے لگیں گے ۔ مبارک وہ جو قبروں میں پڑے ہوئے دعاؤں کے ساتھ خدا کی مدد چاہتے ہیں کیونکہ ایک دن قبروں سے باہر نکالے جائیں گے۔