اسلام (لیکچر سیالکوٹ)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 597

اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 221

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۲۱ لیکچر سیالکوٹ خیال کرتا ہے کہ میں نے بڑا ثواب کا کام کیا ہے اور جو مجھے کا ذب کا ذب کہتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ میں نے خدا کو خوش کر دیا۔ اے وے لوگو! جن کو صبر اور تقویٰ کی تعلیم دی گئی تھی ۔ تمہیں جلد بازی اور بدظنی کس نے سکھلائی ۔ کون سانشان ہے جو خدا نے ظاہر نہ کیا اور کون سی دلیل ہے جو خدا نے پیش نہ کی مگر تم نے قبول نہ کیا اور خدا کے حکموں کو دلیری سے ٹال دیا۔ میں اس زمانہ کے حیلہ گر لوگوں کو کس سے تشبیہ دوں۔ وہ اُس مکار سے مشابہ ہیں کہ روز روشن میں آنکھیں بند کر کے کہتا ہے کہ سورج کہاں ہے۔اے اپنے نفس کے دھوکہ دینے والے! اول اپنی آنکھ کھول پھر تجھے سورج دکھائی دے دے گا۔ خدا کے مرسل کو کافر کہنا سہل ہے مگر ایمان کی باریک راہوں میں اس کی پیروی کرنا مشکل ہے۔ خدا کے فرستادہ کو دجال کہنا بہت آسان ہے مگر (۲۵) اس کی تعلیم کے موافق تنگ دروازہ میں سے داخل ہونا یہ دشوار امر ہے۔ ہر ایک جو کہتا ہے کہ مجھے مسیح موعود کی پرواہ نہیں ہے اُس کو ایمان کی پرواہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ حقیقی ایمان اور نجات اور کچی پاکیزگی سے لا پرواہ ہیں۔ اگر وہ ذرا انصاف سے کام لیں اور اپنے اندرونی حالات پر نظر ڈالیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ بغیر اس تازہ یقین کے جو خدا کے مرسلوں اور نبیوں کے ذریعہ سے آسمان سے نازل ہوتا ہے۔ اُن کی نمازیں صرف رسم اور عادت سے ہیں اور اُن کے روزے صرف فاقہ کشی ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کوئی انسان نہ تو واقعی طور پر گناہ سے نجات پاسکتا ہے اور نہ بچے طور پر خدا سے محبت کر سکتا ہے اور نہ جیسا کہ حق ہے اس سے ڈرسکتا ہے جب تک کہ اُسی کے فضل اور کرم سے اُس کی معرفت حاصل نہ ہو اور اس سے طاقت نہ ملے اور یہ بات نہایت ہی ظاہر ہے کہ ہر ایک خوف اور محبت معرفت سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں جن سے انسان دل لگاتا ہے اور اُن سے محبت کرتا ہے یا اُن سے ڈرتا ہے اور دور بھاگتا ہے۔ یہ سب حالات انسان کے دل کے اندر معرفت کے بعد ہی پیدا ہوتے ہیں۔