اسلام (لیکچر سیالکوٹ)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 597

اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 220

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۲۰ لیکچر سیالکوٹ مندرج ہوتا چلا آیا ہے جس کی تعریف میں لکھتے ہیں کہ حضرت عیسی کے واسطے یہ نسخہ بنایا گیا تھا۔ غرض یہ خیالات نہایت قابل شرم ہیں کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح کو معہ جسم آسمان پر اٹھالے گیا تھا گویا یہودیوں سے ڈرتا تھا کہ کہیں پکڑ نہ لیں۔ جن لوگوں کو اصل تنازعہ کی خبر نہ تھی انہوں نے ایسے خیالات پھیلائے ہیں اور ایسے خیالات میں آنحضرت صلعم کی ہجو ہے کیونکہ آپ سے کفار قریش نے تمام تر اصرار یہ معجزہ طلب کیا تھا کہ آپ ہمارے روبرو آسمان پر چڑھ جائیں اور کتاب لے کر آسمان سے اتریں تو ہم سب ایمان لے آویں گے اور ان کو یہ جواب ملا تھا قُلُ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًار سُولًا یعنی میں ایک بشر ہوں اور خدا تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ وعدہ کے برخلاف کسی بشر کو آسمان پر چڑھاوے حالانکہ وہ وعدہ کر چکا ہے کہ تمام بشر زمین پر ہی اپنی زندگی بسر کریں گے لیکن حضرت مسیح کو خدا نے آسمان پر معہ جسم چڑھا دیا اور اس وعدہ کا کچھ پاس نہ کیا جیسا کہ فرمایا تھا۔ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْهَا تُخْرَجُوْنَ کے بعض کا یہ خیال ہے کہ ہمیں کسی مسیح موعود کے ماننے کی ضرورت نہیں اور کہتے ہیں کہ گو ہم نے قبول کیا کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے ہیں لیکن جب کہ ہم مسلمان ہیں اور نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ہیں اور احکام اسلام کی پیروی کرتے ہیں تو پھر ہمیں کسی دوسرے کی ضرورت ہی کیا ہے لیکن یاد (۲۳) رہے کہ اس خیال کے لوگ سخت غلطی میں ہیں ۔ اول تو وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کیونکر کر سکتے ہیں جب کہ وہ خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتے۔ حکم تو یہ تھا کہ جب وہ امام موعود ظاہر ہو تو تم بلا توقف اُس کی طرف دوڑو اور اگر برف پر گھٹنوں کے بل بھی چلنا پڑے تب بھی اپنے تئیں اُس تک پہنچاؤ لیکن اس کے برخلاف اب لا پرواہی ظاہر کی جاتی ہے۔ کیا یہی اسلام ہے؟ اور یہی مسلمانی ہے اور نہ صرف اس قدر بلکہ سخت سخت گالیاں دی جاتی ہیں اور کا فر کہا جاتا ہے اور نام دجال رکھا جاتا ہے اور جو شخص مجھے دکھ دیتا ہے وہ ا بنی اسرائیل : ۹۴ الاعراف: ۲۶