اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 219
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۱۹ لیکچر سیالکوٹ لیتے لیکن اب تم مجھے دیکھ نہیں سکتے۔ پھر ماسوائے اس کے اگر یہ بات صحیح ہے کہ آیت بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ اے کے یہی معنی ہیں کہ حضرت عیسی آسمان دوم کی طرف اُٹھائے گئے تو پھر پیش کرنا چاہیے کہ اصل متنازعہ فیہ امر کا فیصلہ کس آیت میں بتلایا گیا ہے۔ یہودی جواب تک زندہ اور موجود ہیں وہ تو حضرت مسیح کے رفع کے انہیں معنوں سے منکر ہیں کہ وہ نعوذ باللہ مومن اور صادق نہ تھے اور ان کی روح کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوا اور شک ہو تو یہودیوں کے علماء سے جا کر پوچھ لو کہ وہ صلیبی موت سے یہ نتیجہ نہیں نکالتے کہ اس موت سے روح معہ جسم آسمان پر نہیں جاتی بلکہ وہ بالا تفاق یہ کہتے ہیں کہ جو شخص صلیب کے ذریعہ سے مارا جائے وہ ملعون ہے ۔اس کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوتا ۔ یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں حضرت عیسی کی صلیبی موت سے انکار کیا اور فرمایا وَ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ اور صَلَبُوهُ کے ساتھ آیت میں قَتَلُوهُ کا لفظ بڑھا دیا ۔ تا اس بات پر دلالت کرے کہ صرف صلیب پر چڑھایا جانا موجب لعنت نہیں بلکہ شرط یہ ہے کہ صلیب پر چڑھایا بھی جائے اور بہ نیت قتل اس کی ٹانگیں بھی توڑی جائیں اور اس کو مارا بھی جائے تب وہ موت ملعون کی موت کہلائے گی مگر خدا نے حضرت عیسی کو اس موت سے بچالیا۔ وہ صلیب پر چڑھائے گئے مگر صلیب کے ذریعہ سے ان کی موت نہیں ہوئی۔ ہاں یہود کے دلوں میں یہ شبہ ڈال دیا کہ گویا وہ صلیب پر مر گئے ہیں اور یہی دھو کا نصاریٰ کو بھی لگ گیا۔ ہاں انہوں نے خیال کیا کہ وہ مرنے کے ﴿۲۳﴾ بعد زندہ ہو گئے ہیں لیکن اصل بات صرف اتنی تھی کہ اس صلیب کے صدمہ سے بے ہوش ہو گئے تھے اور یہی معنی شُبّهَ لَهُمْ کے ہیں ۔ اس واقعہ پر مرہم عیسی کا نسخہ ایک عجیب شہادت ہے جو صد ہا سال سے عبرانیوں اور رومیوں اور یونانیوں اور اہل اسلام کی قرابادینوں میں النساء : ۱۵۹ ۲ النساء : ۱۵۸