اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 215
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۱۵ لیکچر سیالکوٹ کر تے ان یہودیوں سے مشابہت پیدا کرلیں گے جو حضرت مسیح کے وقت میں تھے۔ یہ بات جائے اعتراض نہیں کہ آنے والا مسیح اگر اسی اُمت میں سے تھا تو اس کا نام احادیث میں عیسی کیوں رکھا گیا کیونکہ عادت اللہ اسی طرح واقعہ ہے کہ بعض کو بعض کا نام دیا جاتا ہے جیسا کہ احادیث میں ابو جہل کا نام فرعون اور حضرت نوح کا نام آدم ثانی رکھا گیا اور یوحنا کا نام ایلیا رکھا گیا۔ یہ وہ عادت الہی ہے جس سے کسی کو بھی انکار نہیں اور خدا تعالیٰ نے آنے والے مسیح کو پہلے مسیح سے یہ بھی ایک مشابہت دی ہے کہ پہلا مسیح یعنی حضرت عیسی علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام سے چودھویں صدی پر ظاہر ہوا تھا اور ایسا ہی آخری مسیح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چودہویں صدی پر ظاہر ہوا ایسے وقت میں جبکہ ہندوستان سے سلطنت اسلامی جاتی رہی تھی اور انگریزی سلطنت کا دور تھا۔ جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی ایسے ہی وقت میں ظاہر ہوئے تھے جبکہ اسرائیلی سلطنت زوال پذیر ہو کر یہودی لوگ رومی سلطنت کے تحت ہو چکے تھے اور اس امت کے مسیح موعود کے لئے ایک اور مشابہت ےا ہے حضرت عیسی سے ہے اور وہ یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام پورے طور پر بنی اسرائیل میں سے نہ تھے بلکہ صرف ماں کی وجہ سے اسرائیلی کہلاتے تھے ۔ ایسا ہی اس عاجز کی بعض دادیاں سادات میں سے ہیں۔ گو باپ سادات میں سے نہیں اور حضرت عیسی کے لئے خدا نے جو یہ پسند کیا کہ کوئی اسرائیلی حضرت مسیح کا باپ نہ تھا۔ اس میں یہ بھید تھا کہ خدا تعالیٰ بنی اسرائیل کی کثرت گناہوں کی وجہ سے اُن پر سخت ناراض تھا۔ پس اس لئے تنبیہ کے طور پر اُن کو یہ نشان دکھلایا کہ اُن میں سے ایک بچہ صرف ماں سے بغیر شراکت باپ کے پیدا کیا۔ گویا اسرائیلی وجود کے دوحصوں میں سے صرف ایک حصہ حضرت مسیح کے پاس رہ گیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آنے والے نبی میں یہ بھی نہیں ہوگا۔ پس چونکہ دنیا ختم ہونے پر ہے اس لئے میری اس پیدائش میں بھی ایک اشارہ ہے اور وہ یہ کہ قیامت قریب ہے اور وہ ہی حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” کر کے “ہونا چاہیے۔(ناشر)