اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 205
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۰۵ لیکچر سیالکوٹ پھر کب جائز تھا کہ جو باتیں حضرت عیسی علیہ السلام کے منہ سے نہیں نکلیں وہ مذہب کے اندر داخل کر دی جائیں لیکن چونکہ ضرور تھا کہ خدا ایک عالمگیر مذہب یعنی اسلام دنیا میں قائم کرے اس لئے عیسائیت کا بگڑنا اسلام کے ظہور کے لئے بطور ایک علامت کے تھا۔ یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ اسلام کے ظہور سے پہلے ہندو مذہب بھی بگڑ چکا تھا اور تمام ہندوستان میں عام طور پر بت پرستی رائج ہو چکی تھی اور اُسی بگاڑ کے یہ آثار باقیہ ہیں کہ وہ خدا جو اپنی صفات کے استعمال میں کسی مادہ کا محتاج نہیں اب آریہ صاحبوں کی نظر میں وہ پیدائش مخلوقات میں ضرور مادہ کا محتاج ہے۔ اس فاسد عقیدہ سے اُن کو ایک دوسرا فاسد عقیدہ بھی جو شرک سے بھرا ہوا ہے قبول کرنا پڑا یعنی یہ کہ تمام ذرات عالم اور تمام ارواح قدیم اور انا دی ہیں۔ مگر افسوس کہ اگر وہ ایک نظر غائر خدا کی صفات پر ڈالتے تو ایسا کبھی نہ کہہ سکتے کیونکہ اگر خدا پیدا کرنے کی صفت میں جو اس کی ذات میں قدیم سے ہے انسان کی طرح کسی مادہ کا محتاج ہے تو کیا وجہ کہ وہ اپنی صفت شنوائی اور بینائی وغیرہ میں انسان کی طرح کسی مادہ کا محتاج نہیں ۔ انسان بغیر توسط ہوا کے کچھ سن نہیں سکتا اور بغیر توسط روشنی کے کچھ دیکھ نہیں سکتا۔ پس کیا پر میشر بھی ایسی کمزوری اپنے اندر رکھتا ہے؟ اور وہ بھی سننے اور دیکھنے کے لئے ہوا اور روشنی کا محتاج ہے؟ پس اگر وہ ہوا اور روشنی کا محتاج نہیں تو یقیناً سمجھو کہ وہ صفت پیدا کرنے میں بھی کسی مادہ کا محتاج نہیں۔ یہ منطق سراسر جھوٹ ہے کہ خدا اپنی صفات کے اظہار میں کسی مادہ کا محتاج ہے۔ انسانی صفات کا خدا پر قیاس کرنا کہ نیستی سے ہستی نہیں ہو سکتی اور انسانی کمزوریوں کو خدا پر جمانا بڑی غلطی ہے۔ انسان کی ہستی محدود اور خدا کی ہستی غیر محدود ہے پس وہ اپنی ہستی کی قوت سے ایک اور ہستی پیدا کر لیتا ہے۔ یہی تو خدائی ہے اور وہ اپنی کسی صفت میں مادہ کا محتاج نہیں ہے ورنہ وہ خدا نہ ہو۔ کیا اس کے کاموں میں کوئی روک ہوسکتی (۴) ہے؟ اور اگر مثلاً چاہے کہ ایک دم میں زمین و آسمان پیدا کر دے تو کیا وہ پیدا نہیں کرسکتا ؟