اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 204
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۰۴ لیکچر سیالکوٹ یہ تجدید کبھی نصیب نہیں ہوئی۔ اس لئے وہ سب مذہب مر گئے ۔ اُن میں روحانیت باقی نہ رہی اور بہت سی غلطیاں اُن میں ایسی جم گئیں کہ جیسے بہت مستعمل کپڑہ پر جو بھی دھویا نہ جائے میں جم جاتی ہے اور ایسے انسانوں نے جن کو روحانیت سے کچھ بہرہ نہ تھا اور جن کے نفس اماره سفلی زندگی کی آلائشوں سے پاک نہ تھے اپنی نفسانی خواہشوں کے مطابق اُن مذاہب کے اندر بے جا دخل دے کر ایسی صورت اُن کی بگاڑ دی کہ اب وہ کچھ اور ہی چیز ہیں۔ مثلاً عیسائیت کے مذہب کو دیکھو کہ وہ ابتدا میں کیسے پاک اصول پر مبنی تھا اور جس تعلیم کو حضرت مسیح علیہ السلام نے پیش کیا تھا اگر چہ وہ تعلیم قرآنی تعلیم کے مقابل پر ناقص تھی کیونکہ ابھی کامل تعلیم کا وقت نہیں آیا تھا اور کمزور استعداد میں اس لائق بھی نہ تھیں تا ہم وہ تعلیم اپنے وقت کے مناسب حال نہایت عمدہ تعلیم تھی۔ وہ اُسی خدا کی طرف رہنمائی کرتی تھی جس کی طرف توریت نے رہنمائی کی لیکن حضرت مسیح کے بعد مسیحیوں کا خدا ایک اور خدا ہو گیا جس کا توریت کی تعلیم میں کچھ بھی ذکر نہیں اور نہ بنی اسرائیل کو اس کی کچھ بھی خبر ہے۔ اس نئے خدا پر ایمان لانے سے تمام سلسلہ تو رات کا اُلٹ گیا اور گناہوں سے حقیقی نجات اور پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے جو ہدائتیں تو رات میں تھیں وہ سب درہم برہم ہو گئیں اور تمام مدار گناہ سے پاک ہونے کا اِس اقرار پر آ گیا کہ حضرت مسیح نے دنیا کو نجات دینے کے لئے خود صلیب قبول کی اور وہ خدا ہی تھے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ تو رات کے اور کئی ابدی احکام تو ڑ دیئے گئے اور عیسائی مذہب میں ایک ایسی تبدیلی واقع ہوئی کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام خود بھی دوبارہ تشریف لے آویں تو وہ اس مذہب کو شناخت نہ کر سکیں۔ نہایت حیرت کا مقام ہے کہ جن لوگوں کو تو رات کی پابندی کی سخت تاکید تھی انہوں نے یکلخت تورات کے احکام کو چھوڑ دیا۔ مثلاً انجیل میں کہیں حکم نہیں کہ تورات میں تو سو رحرام ہے اور میں تم پر حلال کرتا ہوں اور تورات میں تو ختنہ کی تاکید ہے اور میں ختنہ کا حکم منسوخ کرتا ہوں ۔