اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxvii of 822

اِعجاز المسیح — Page xxvii

مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک زبردست نشان ثابت ہوئی۔الہد۔ٰ ی و التّبصرۃ لمن یر۔ٰ ی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے علماء ہند کے تعصب اور انکارِ حق پر اصرار کو دیکھ کر شام اور مصر وغیرہ کے علماء کی طرف توجّہ فرمائی کہ شاید ان میں سے کوئی تائید حق کے لئے کھڑا ہو جائے۔شام کے متعلق معلوم ہوا کہ وہاں دینی مناظرات کی اجازت نہیں اس لئے آپ نے جہاں مصر کے بعض علماء اور مدیرانِ جرائد و مجلات کو اعجاز المسیح کے چند نسخے ارسال کئے وہاں ایک نسخہ تقریظ کے لئے الشیخ محمد رشید رضا مدیر المنار کو بھی بھجوایا۔مناظراور الہلال کے مدیران نے تو اس کی فصاحت و بلاغت کی بہت تعریف کی مگر الشیخ محمد رشید رضا نے نحویوں اور ادیبوں کے استشہاد پیش کئے بغیر لکھ دیا کہ کتاب سہو و خطا سے بھرپور ہے اور اس کے سجع میں بناوٹ سے کام لیا گیا ہے۔اور لطیف کلام نہیں۔اور عرب کے محاورات کے خلاف ہے۔(صفحہ ۲۵۲تا۲۵۷ جلدھٰذا) اور ستّر دن کی مدّت جو آپ نے اس کی مثل لانے کے لئے مقرر کی تھی اس کا ذکر کر کے اُس نے یہ لاف زنی کی:۔’’ان کثیرًا من اھل العلم یستطیعون ان یکتبوا خیرًا منہ فی سبعۃِ ایامٍ‘‘ (المنار جلد ۴ صفحہ ۴۶۶) یعنی بہت سے اہل علم اس سے بہتر سات دن میں لکھ سکتے ہیں:۔جب اس کا یہ ریویو ہندوستان میں شائع ہوا تو علمائے ہند نے اس کی آڑلے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف از سر نو مخالفت کا ایک طوفان برپا کر دیا۔تب آپ نے احقاق حق اور ابطال باطل اور اتمام حجت کے لئے اﷲ تعالیٰ سے رہنمائی چاہی تو آپ کے دل میں یہ ڈالا گیا کہ آپ اس مقصد کے لئے ایک کتاب تالیف فرمائیں اور پھر مدیر المنار اور ہر اس شخص سے جو ان شہروں سے مخالفت کے لئے اٹھے اس کی مثل طلب کریں۔چنانچہ آپ نے اﷲ تعالیٰ کے حضور نہایت تضرّع اور خشوع و خضوع سے دُعا کی یہاں تک کہ قبولیت دعا کے آثار ظاہر ہوئے۔و وفقت لتألیف ذالک الکتاب۔فسأُرسلہ الیہ بعد الطبع و تکمیل الابواب۔فان اتٰی بالجواب الحسن و احسن الردّ علیہ۔فاحرق کتبی و اقبّل قدمیہ۔