اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiv of 822

اِعجاز المسیح — Page xxiv

مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی۔مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا۔اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا۔لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تُو ہی ہے۔۔۔۔۔۔اِسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہو تا تو مَیں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امّتی۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۱۵۲تا۱۵۴) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حضرت مسیح عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی فضیلت کو جزئی فضیلت قرار دینا صرف اس وجہ سے تھا کہ آپ اپنے آپ کو غیر نبی اور حضرت مسیح عیسیٰ ؑ کو نبی سمجھتے تھے۔لیکن جب آپ پر یہ انکشاف ہو گیا کہ آپ بھی نبی ہیں تو آپ نے حضرت مسیح علیہ السلام پر تمام شان میں افضل ہونے کا اعلان کر دیا۔اِسی طرح دافع البلاء میں بھی اپنے آپ کو ان سے بہتر قرار دیا۔سو آپ کا ۱۹۰۱ء سے پہلے اپنے نبی ہونے سے انکار مسلمانوں میں نبی کی اس عام رائج تعریف کے ماتحت تھا کہ نبی وہ ہوتا ہے جو شریعت لائے یا پہلی شریعت کے بعض احکام کو منسوخ کرے اور یہ کہ وہ نبی سابق کی اُمت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفاضہ کسی نبی کے خدا سے تعلّق رکھتے ہیں (دیکھو الحکم ۱۷؍ اگست ۱۸۸۹ء) اس لئے ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ لفظ نبی کو جو الہامات میں آپ کے لئے استعمال ہوا تھا ظاہر پر محمول نہیں فرماتے تھے بلکہ تاویل کر کے اُسے بمعنی محدّث لیتے یا جزئی نبوت کے نام سے تعبیر فرماتے تھے۔مگر جب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر یہ منکشف ہو گیا کہ نبی ہونے کے لئے نئی شریعت کا لانا ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو تو آپ نے اپنے لئے نبی کا استعمال شروع فرما دیا اور اس