اِعجاز احمدی — Page 200
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۲۰۰ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح وَ سَمَّاهُ تِبْيَانًا وَ قَوْلًا مُّفَصَّلا فَأَيَّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ نَتَخَيَّرُ اور اس کا نام تبیان اور قول مفصل رکھا۔ پس کس حدیث کو ہم اس کے بعد اختیار کریں فَدَعُ ذِكْرَ بَحْثٍ فِيْهِ ظُلْمٌ وَفِرْيَةٌ وَفَكِّرُ بِنُورِ الْقَلْبِ فِيْمَا نُكَرِّرُ پس ایسی بحث کو چھوڑ دے جس میں جھوٹ ہے۔ اور نور دل کے ساتھ ہماری باتوں میں غور کر لَنَا الْفَضْلُ فِي الدُّنْيَا وَانْفُكَ رَاغِمٌ وَكُلُّ صَدُوقٍ لَّا مَحَالَةَ يُظْهَرُ ہمیں دنیا میں بزرگی دی گئی اور تو ذلت میں ہے۔ اور ہر ایک راستباز انجام کا رغالب کیا جاتا ہے ﴿۷﴾ عَلَوْنَا بِسَيْفِ اللَّهِ خَصُمًا اَبَا الْوَفَا فَنُمْلِي ثَنَاءَ اللَّهِ شُكْرًا وَنَسْطُرُ ہم نے اپنے دشمن ابوالوفا کو مار لیا۔ پس ہم خدا کی تعریف از روئے شکر کے لکھتے ہیں اَيَزْعَمُ أَنِّي قَدْ تَقَوَّلْتُ عَامِدًا فَوَيْلٌ لَهُ يُغْوِي الْأَنَاسَ وَيَهْذُرُ وہ گمان کرتا ہے کہ میں نے عمداً جھوٹ بنالیا۔ پس اس پر واویلا کہ لوگوں کو گمراہ اور بکواس کر رہا ہے ارى بَاطِلا قَدْ ثَلَّمَ الْحَقُّ جُدْرَهُ فَأَضْحَى الْهُدَى مِثْلَ الضُّحَى يُتَبَصَّرُ میں دیکھتا ہوں کہ سچائی نے باطل کی دیواروں میں سوراخ کر دیا۔ پس ہدایت روز روشن کی طرح نمایاں ہوگئی وَإِنَّى طَبَعْتُ الْيَوْمَ نَظْمَ قَصِيدَتِي وَكَانَ إِلَى نِصْفٍ تَمَشَّى نُؤْمُبَرُ اور آج میں نے اپنے اس قصیدہ کی نظم کو چھاپ دیا۔ اور نومبر کا مہینہ قریباً نصف گذر چکا تھا كَذَالِكَ مِنْ شَعْبَانَ نِصْفٌ كَمِثْلِهِ فَيَا رَبِّ بَارِكُهَا لِمَنْ يَتَذَكَّرُ اسی طرح شعبان کا بھی نصف تھا۔ پس اے میرے رب ! ان کے لئے اس کو مبارک کر جو ہدایت پر آنا چاہے رَمَيْتُ لَا غُتَالَنُ وَمَا كُنتُ رَامِيًا وَلَكِنْ رَّمَاهُ اللَّهُ رَبِّي لِيُظْهِرُ میں نے اس رسالہ کو تیر کی طرح چلا یا تا یک دفعہ دشمن کا کام تمام کروں ۔ اور دراصل میں نے اس کو نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا تا مجھے غلبہ دے سہو کا تب سے بِسَيْفِ اللہ کا ترجمہ رہ گیا ہے۔ مکمل ترجمہ یوں ہے ۔ ہم نے خدا کی تلوار سے اپنے دشمن ابوالوفا کو مار دیا۔ (شمس)