اِعجاز احمدی — Page 195
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۹۵ اعجاز احمدی نعیمه نزول المسیح وَشَنُّوا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَنْ بِمَوْطِنٍ فَصَارَ مِنَ الْقَتُلَى بَرَانٌ مُعَصْفَرُ اور اپنی کوششوں سے خوب ان مشرکوں کو تباہ کیا لڑائی کے میدان میں ۔ یہاں تک کہ اُن کشتوں سے میدان جنگ سرخ ہو گیا وَكَمْ مِّنْ ذِرَاعَاتٍ أُبِيدَتْ وَمِثْلُهَا بُيُوتٌ مَيِّتَاةٌ وَّ طِرْفٌ مُصَدِّرُ اور بہت سی کھیتیاں تباہ کی گئیں اور گھر ویران کئے گئے اور وہ گھوڑے جو سب سے آگے نکل جاتے تھے مارے گئے وَأُخْرِقَ مَالُ الْمُشْرِكِينَ وَحُصِّلَتْ مَغَانِمُ شَتَّى وَالْمَتَاعُ الْمُوَقَّرُ اور مشرکوں کا گھر بار جلایا گیا اور بہت سی غنیمتیں اور بہت متاع حاصل کئے گئے بِبَدْرٍ وَأَحْدٍ قَامَ نَوْعُ قِيَامَةٍ وَكَانَ الصَّحَابَةُ كَالَا فَانِينِ كُسِّرُوا بدر میں اور اُحد کی لڑائی میں ایک قیامت برپاتھی اور اصحاب رضی اللہ عنہم شاخوں کی طرح توڑے گئے هَمَتْ مِثْلَ جَرْيَانِ الْعُيُون دِمَاءُ هُمُ تَسَوَّرَ دِعْصَ الرَّمُلِ مَا كَانَ يَقْطُرُ اور چشموں کی طرح ان کے خون رواں ہو گئے اور ان کا خون ریت کے تو دو کے اوپر چڑھ گیا وَكَانَ بِحُرِّ الرَّمْلِ مَوْقِفُهُمْ فَهُمْ عَلَى رِسُلِهِمْ بَارَوْا عِدَاهُمْ وَجَمَّرُوا اور خالص ریت میں ان کے کھڑے ہونے کی جگہ تھی پس انہوں نے بڑے وقار اور آرام سے دشمنوں کا مقابلہ کیا اورلڑائی پر جے ( رہے) وَ قَامُوا لِبَدلِ نُفُوسِهِمُ مِنْ صِدْقِهِمْ عَلَى مَوْطِنِ فِيهِ الْمَنِيَّةُ يَرُءَ رُ (۸۳) یزء اور اپنے صدق سے جان قربان کرنے کے لئے ایسی جگہ کھڑے ہو گئے جس میں موت شیر کی طرح غراتی تھی وَصُبَّتْ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ مُصِيبَةٌ وَدَقُوا عَلَيْهِ مُنَ السُّيُوفِ الْمِغْفَرُ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر ایک مصیبت نازل ہوئی اور دشمنوں نے اس کے خود کو تلواروں سے اس کے سر میں دھنسا دیا مقابلہ کرو تو اس مقابلہ کی کیا ضرورت تھی بلکہ مشرکوں کو کہنا چاہیے تھا کہ تم اپنے شرک میں حق پر ہو اور کلمہ لا اله الا اللہ غلط ہے اب تم مہربانی کر کے جنگ چھوڑ دو اور ہمیں دکھ نہ دو۔ ہم تم سے بمقابلہ تمہارے کوئی جنگ نہیں کرتے اور ہم مانتے ہیں کہ غیر اللہ سے مرادیں مانگنا سب کی ہے اس پر ہمارا کوئی اعتراض نہیں۔ منہ