اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 566

اِعجاز احمدی — Page 186

علی حائری شیعہ کی نسبد روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۸۶ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح فَكِيدُوا جَمِيعَ الْكَيْدِ يَا أَيُّهَا الْعِدَا فَيَعْصِمُنِي رَبِّي وَهَذَا مُقَدَّرُ پس ہر ایک قسم کا مگر مجھ سے کرو اے دشمنو! پس میرا خدا مجھے بچائے گا اور یہی مقدر ہے مَضَى وَقْتُ ضَرْبِ الْمُرْهِفَاتِ وَ دَفْوُهَا وَإِنَّا بِبُرْهَانِ مِّنَ اللَّهِ نَنْحَرُ وہ وقت گذر گیا جب کہ تلواریں چلائی جاتی تھیں ۔ اور ہم خدا کی بر ہان سے منکروں کو ذبح کرتے ہیں وَلِلَّهِ سُلْطَانٌ وَّحُكُمْ وَشَوْكَةٌ وَنَحْنُ كُمَاةَ بِالْإِشَارَةِ نَحْضُرُ اور خدا کے لئے تسلط اور حکم اور شوکت ہے۔ اور ہم وہ سوار ہیں جو اشارہ پر حاضر ہوتے ہیں إِذَا مَا رَأَيْنَا حَائِرًا أَجْهَلَ الْوَرَى طَوَيْنَا كِتَابَ الْبَحْثِ وَالآى اَظْهَرُ اور جب میں نے علی حائری جو سب سے جاہل ترجمے دیکھا نشان جو ہم پیش کرتے ہیں وہ ظاہر ہیں پھر بحث کی کیا حاجت؟ وَمَا كُنتُ بِالصَّمْتِ الْمُخَجِّلِ رَاضِياً وَلَكِن رَّأيتُ الْقَوْمَ لَمْ يَتَبَصَّرُ اور میں شرمندہ کرنے والی خاموشی پر راضی نہ تھا مگر میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ کچھ سوچتے نہیں أخَاطِبُ جَهْرًا لَا أَقُولُ كَخَافِتٍ فَإِنِّي مِنَ الرَّحْمَنِ أَوْحَى وَأُخْبَرُ میں کھلے کھلے مخاطب کرتا ہوں نہ پوشیدہ قول سے کیونکہ میں خدا کی طرف سے وحی پا تا اور خبر دیا جاتا ہوں أَيَا عَابِدَ الْحَسُنَيْنِ إِيَّاكَ وَاللَّظى وَمَالَكَ تَخْتَارُ السَّعِيْرَ وَتَشْعُرُ ائے حسین اور حسن کی عبادت کرنے والے دوزخ کی آگ سے پر ہیز کر تجھے کیا ہو گیا کہ دوزخ کو اختیار کرتا ہے اور جانتا ہے وَأَنْتَ امْرَءٌ مِّنْ أَهْلِ سَبِّ وَإِنَّنَا رِجَالٌ لِإِظْهَارِ الْحَقَائِقِ نُؤْمَرُ اور ٹو وہ آدمی ہے کہ گالیاں دیتا ہے اور ہم لوگ اور ہم وہ آدمی ہیں جو حقیقتوں کے ظاہر کرنے کے لئے حکم دیئے جاتے ہیں سَبَبْتَ وَإِنَّ السَّبَّ مِنْ سُنَنِ دِينِكُمْ لِكُلِّ أُناسٍ سُنَّةٌ لا تُغَيَّرُ لَّا تو نے گالیاں دیں اور گالیاں دینا تمہارا طریق ہے اور ہر ایک آدمی کے لئے ایک طریق ہے جو نہیں بدلتا تَرى سُقْمَ نَفْسِى مَا تَرَى آيَ رَبِّنَا كَأَنَّكَ غُولٌ فَاقِدُ الْعَيْنِ أَعْوَرُ تو میرے نفس کا عیب دیکھتا ہے اور خدا کے نشان نہیں دیکھتا۔ گویا تو ایک دیو ہے آنکھ کھوئی والا ایک چشم ترجمہ میں کچھ الفاظ سہو کا تب سے رہ گئے ہیں۔ اصل میں ترجمہ یوں ہوگا۔ اور جب میں نے علی حائری کو جو سب سے جاہل تر ہے کو دیکھا تو کہا کہ ) ۔ (شمس) سہو کتابت سے اور ہم زائد ہے ۔ ہم لوگ وہ آدمی“ ہونا چاہیے۔ (ناشر)