اِعجاز احمدی — Page 182
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۸۲ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح وَإِنْ يُلْقِنِي خَصْمِي بِنَارٍ مُّذِيبَةٍ تَجدُنِي سَلِيمًا وَّ الْعَدُو يُدَمرُ اور اگر میرا دشمن ایک گداز کرنے والی آگ میں مجھے ڈال دے۔ تو مجھے سلامت پائے گا اور دشمن ہلاک ہو گا وَ أَوْعَدَنِى قَوْمٌ لِّقَتْلِى مِنَ الْعِدَا فَادْ رَكَهُمْ قَهُرُ الْمَلِيْكِ وَخُسِّرُوا اور بعض دشمنوں نے مجھے قتل کرنے کے لئے وعدہ کیا۔ پس خدا کے قہر نے ان کو پکڑ لیا اور وہ زیاں کا ر ہو گئے (۰) كَذَالِكَ تَبْغِي فَهُوَ رَبِّ مُّحَاسِبٍ وَمَا إِنْ أَرَى فِيْكَ الْكَلَامَ يُؤَكِّرُ اسی طرح تو بھی خدائی حساب لینے والے سے قہر طلب کر رہا ہے اور میں نہیں دیکھتا کہ تجھ میں کلام اثر کرے بُعِثْتُ مِنَ اللهِ الرَّحِيمِ لِخَلْقِهِ لِأُنذِرَ قَوْمًا غَافِلِينَ وَأُخْبِرُ میں خدائے رحیم کی طرف سے اس کی مخلوق کے لئے بھیجا گیا ہوں تا کہ میں غافلوں کو متنبہ کردوں اور ان کوخبر دوں وَ ذَلِكَ مِنْ فَضْلِ الْكَرِيمِ وَلُطْفِهِ عَلَى كُلِّ مَنْ يَّبْغِى الصَّلَاحَ وَيَشْكُرُ اور میرا آنا خدائے کریم کا فضل ہے اور اس کا لطف ان تمام لوگوں پر ہے جو صلاحیت کے طلب گار ہیں اور شکر کرتے ہیں أَرَى النَّاسَ يَبْغُونَ الْجِنَانَ نَعِيْمَهَا وَاَحْلَى أَطَائِبُهَا الَّتِي لَا تُحْصَرُ میں لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ بہشت اور اس کی نعمتوں کے طلب گار ہیں اور بہشت کی وہ لذات طلب کرتے ہیں جو اعلیٰ اور بے حد و پایاں ہیں وَ أَبْغِي مِنَ الْمَوْلَى نَعِيْمًا يَسُرُّنِي وَمَا هُوَ إِلَّا فِى صَلِيبِ يُكَسَّرُ اور میری خواہش ایک مراد ہے جس پر میری خوشی موقوف ہے اور وہ خواہش یہ ہے کہ کسی طرح صلیب ٹوٹ جائے وَ ذَلِكَ فِرْدَوْسِی وَ خُلْدِی وَ جَنَّتِي فَادْخِلْنِ رَبِّي جَنَّتِي أَنَا أَضْجَرُ یہی میرا فردوس ہے، یہی میرا بہشت ہے، یہی میری جنت ہے۔ پس اے میرے خدا! میرے بہشت میں مجھے داخل کر کہ میں بے قرار ہوں وَ إِنِّي وَرِثْتُ الْمَالَ مَالَ مُحَمَّدٍ فَمَا أَنَا إِلَّا الُهُ الْمُتَخَيَّرُ اور میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مال کا وارث بنایا گیا ہوں۔ پس میں اس کی آل برگزیدہ ہوں جس کو ور نہ پہنچ گئی وَكَيْفَ وَرِثْتُ ولَسْتُ مِنْ أَبْنَاءِهِ فَفَكْرُ وَهَلْ فِي حِزْبِكُمْ مُّتَفَكِّرُ اور میں کیونکر اس کا وارث بنایا گیا جب کہ میں اس کی اولاد میں سے نہیں ہوں، پس اس جگہ فکر کر کیا تم میں کوئی بھی فکر کرنے والا نہیں ؟ حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے تا زائد ہے۔ (ناشر)