اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 566

اِعجاز احمدی — Page 183

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۸۳ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح ا تَزُعَمُ أَنَّ رُسُولَنَا سَيِّدَ الْوَرَى عَلَى زَعْمِ شَانِيهِ تُوُفِّيَ اَبْتَرُ کیا تو گمان کرتا ہے کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بے اولاد ہونے کی حالت میں وفات پائی جیسا کہ دشمن بد گو کا خیال ہے فَلَا وَالَّذِى خَلْقَ السَّمَاءَ لِلَّاجُلِهِ لَهُ مِثْلُنَا وَلدٌ إِلَى يَوْمِ يُحْشَرُ مجھے اس کی قسم جس نے آسان بنایا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ سلم کیلئے میری طرح اور بھی بیٹے ہیں اور قیامت تک ہوں گے وَإِنَّا وَرِثْنَا مِثْلَ وُلْدِ مَتَاعَهُ فَاَيُّ ثُبُوتٍ بَعْدَ ذَلِكَ يُحْضَرُ اور ہم نے اولاد کی طرح اس کی وراثت پائی۔ پس اس سے بڑھ کر اور کون سا ثبوت ہے جو پیش کیا جائے؟ لَهُ خَسَفَ الْقَمَرُ الْمُنِيرُ وَإِنَّ لِى غَسَا الْقَمَرَانِ الْمُشْرِقَانِ أَتُنْكِرُ (ا) اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا؟ وَكَانَ كَلامٌ مُعْجِزَآيَةً لَّهُ كَذَلِكَ لِي قَوْلِيٌّ عَلَى الْكُلِّ يَبْهَرُ اور اس کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا۔ اسی طرح مجھے وہ کلام دیا گیا جو سب پر غالب ہے إذَا الْقَوْمُ قَالُوا يَدَّعِى الْوَحْيَ عَامِدًا عَجِبْتُ فَإِنِّي ظِلُّ بَدْرٍ يُنَوِّرُ ۔ جب قوم نے کہا کہ یہ تو عمد اوحی کا دعوی کرتا ہے۔ میں نے تعجب کیا کہ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حل ہوں وَ أَنَّى لِظِلٍّ أَنْ يُخَالِفَ أَصْلَهُ فَمَا فِيهِ فِي وَجْهِيَ يَلُوحُ وَيَزُهَرُ اور سایہ کیونکر اپنے اصل سے مخالف ہو سکتا ہے۔ پس وہ روشنی جو اس میں ہے وہ مجھ میں چمک رہی ہے وَإِنِّي لَذُونَسب كَاصْل أُطِيْعُهُ وَمِنْ طِينِهِ الْمَعْصُومِ طِيْنِى مُعَطَّرُ اور میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ذو نسب ہوں۔ اور اس کی پاک مٹی کا مجھ میں ضمیر ہے كَفَى الْعَبْدَ تَقْوَى الْقَلْبِ عِنْدَ حَسِينَا وَلَيْسَ لِنَسْبٍ ذُو صَلَاحٍ مُعَيِّرُ اور بندہ کو دل کا تقویٰ کافی ہے اور ایک صالح کو اس لئے سرزنش نہیں کر سکتے کہ اس کی نسب اعلی نہیں وَلكِنْ قَضَى رَبُّ السَّمَالَائِمَّةٍ لَهُمْ نَسَبٌ كَيْلا يَهِيجَ السَّنَقُرُ مگر خدا نے اماموں کے لئے چاہا کہ وہ ذ ونسب ہوں تا کہ لوگوں کو ان کی کمی نسب کا تصور کر کے نفرت پیدا نہ ہو وَمَنْ كَانَ ذَا نَسْبٍ كَرِيمٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَبٌ فَهُوَ الدَّنِيُّ الْمُحَقَّرُ اور جو شخص اچھی نسب رکھتا ہے مگر اس میں ذاتی صفات کچھ نہیں وہ کمینہ اور حقیر ہے